The news is by your side.

Advertisement

مشرف کیس کا فیصلہ بھٹو کے فیصلے سے زیادہ متنازع ہے، وکیل سلمان صفدر

اسلام آباد: پرویز مشرف کے وکیل سلمان صفدر نے کہا ہے کہ پرویز مشرف کو اپنے دفاع کا موقع نہیں دیا گیا، حالیہ فیصلہ ذوالفقار علی بھٹو کے فیصلے سے زیادہ متنازع ہے۔

تفصیلات کے مطابق پرویز مشرف کے وکلا سلمان صفدر ودیگر نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پرویز مشرف کے وکلا کو بھی نہیں سنا گیا، مشرف کے خلاف فیصلے میں متعلقہ قانون کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔

وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ کیس میں تمام بنیادی قوانین کی خلاف ورزی کی گئی، پرویز مشرف کی عدم موجودگی میں فیصلہ افسوسناک ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں کسی کو ایسے مقدمے میں سزا نہیں دی گئی، مقدمے کے استغاثہ کی بنیاد ہی غلط تھی، کابینہ کو آن بورڈ نہیں لیا گیا۔

پرویز مشرف کے وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ٹرائل کورٹ سے تعاون کیا لیکن ہمیں نہیں سنا گیا، مقدمے میں شوکت عزیز اور دیگر وزرا کو کیوں شامل نہیں کیا گیا۔

مزید پڑھیں: آئین شکنی کیس میں پرویز مشرف کو سزائے موت کا حکم

سلمان صفدر نے کہا کہ سب کو بائی پاس کرکے 77 سال کے بیمار کو سزا سنانا افسوسناک ہے، قانونی تقاضے پورے کیے جاتے تو فیصلہ جو آیا ہے وہ نہ ہوتا۔

واضح رہے کہ خصوصی عدالت نے سابق صدر اور جنرل (ر) پرویز مشرف کو آئین شکنی کیس میں سزائے موت کا حکم سنایا تھا۔

خصوصی عدالت کے 3 رکنی بینچ میں شامل ایک جج نے سزائے موت سے اختلاف کیا تھا، تاہم خصوصی عدالت کے بینچ نے اکثریت کی بنیاد پر فیصلہ سنایا تھا۔

یاد رہے کہ خصوصی عدالت میں پرویز مشرف کے خلاف 6 سال آئین شکنی کیس چلا، 3 نومبر 2007 کی ایمرجنسی میں چیف جسٹس و دیگر ججز کو نظر بند کیا گیا تھا، جنرل (ر) پرویز مشرف تشویش ناک حالت میں دبئی کے اسپتال میں زیر علاج ہیں، وہ سابق آرمی چیف اور صدر پاکستان رہ چکے ہیں، پاکستان کے لیے 2 جنگیں بھی لڑ چکے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں