The news is by your side.

Advertisement

ایک لیکچر کے ایک لاکھ 45 ہزار ڈالر ملتے ہیں، پرویز مشرف

کراچی: سابق صدر اور آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ پرویز مشرف نے کہا ہے کہ جب میں نے پاکستان چھوڑا تو میرے پاس صفر اثاثے تھے، ایک لیکچر کے ایک لاکھ 45 ہزار ڈالر ملتے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’سوال یہ ہے‘ میں کیا، پرویز مشرف نے کہا کہ میرے اثاثے جب بھی پوچھیں گے جواب دے دوں گا، میری منی ٹریل تلاش کی جائے گی تو کچھ نہیں ملے گا، میں نے سب کچھ اپنے زور بازو سے بنایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ لندن میں تین بیڈ روم کا فلیٹ ہے میں بہت خوش ہوں، جب پاکستان چھوڑا تو میرے پاس صفر اثاثے تھے، ایک لیکچر کے ایک لاکھ 45 ہزار ڈالر ملتے ہیں، مجھے سیکیورٹی کا نہیں بلکہ عدالتی اور حکومتی کی طرف سے نشانہ بنانے کا خطرہ ہے۔

سابق صدر پرویز مشرف نے کہا کہ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نواز شریف کی تھالی سے کھا رہے تھے، انہوں نے نواز شریف کو الیکشن جتوایا جبکہ چوہدری شجاعت کی کتاب میں لکھی گئی باتوں سے میں اتفاق نہیں کرتا۔

سربراہ آل پاکستان مسلم لیگ نے کہا کہ عمران خان ابھی تک سولو فلائٹ کررہے ہیں، چیئرمین تحریک انصاف اپنے آپ کو اوور اسٹیمیٹ کررہے ہیں، میں نے عمران خان کو کبھی وزیر اعظم کے عہدے کی آفر نہیں کی۔

پرویز مشرف نے کہا کہ ن لیگ کے عزائم خطرناک ہیں عدلیہ اور فوج سے تصادم چاہتی ہے، آرٹیکل 62، 63 کا غلط استعمال روکنا چاہئے، آرٹیکل 62،63 میں ترمیم کے حق میں ہوں۔

سابق صدر نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر، پولیس، تھانہ کچہری سب نواز شریف کے زیر اثر ہیں، وزیر داخلہ احسن اقبال نواز شریف کے اشارے پر میرے خلاف بول رہے ہیں، جب یہ پکے چلے جائیں گے تب میں پاکستان آنے میں آسانی محسوس کروں گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کوئی پارٹی اس وقت پاکستانی پارٹی نہیں ہے، پاک سرزمین پارٹی کو کراچی کے عام آدمی کا بھی ووٹ نہیں ملے گا، پاک سرزمین پارٹی ایم کیو ایم کا بدل نہیں ہوسکتی ہے۔

پرویز مشرف نے کہا کہ خواجہ آصف کے خلاف نااہلی کا فیصلہ بالکل صحیح ہے، سیالکوٹ میں جس طرح ان پر سیاہی پھینکی گئی وہی فیصلہ عدالت سے آیا ہے، اسمبلی میں کھڑے ہوکر خواجہ آصف فوج اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف باتیں کرتے تھے یہ کوئی وزیر ہے، خواجہ آصف کو وزیر خارجہ بنادیا گیا وزیر خارجہ بیلنس ہونا چاہئے جو دنیا بھر میں پاکستان کی نمائندگی کرے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں