The news is by your side.

Advertisement

پاکستان کو اسلامی اتحاد کا‌ حصہ نہیں بننا چاہیے، پرویز مشرف، خصوصی انٹرویو

اسلام آباد: سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے کہا ہے کہ اسلامی اتحادی افواج کا معاملہ نازک ہے، پاکستان کو اس اتحاد کا حصہ نہیں بننا چاہیے، یہ واضح نہیں کہ اتحاد کارروائی کس کے خلاف کرے گا، نواز شریف کے ہر آرمی چیف سے تعلقات کشیدہ رہے، بہت مذاق اڑ چکا، نواز شریف کی جگہ ہوتا تو استعفیٰ دے دیتا۔

نواز شریف کے دور حکومت میں سول ملٹری تعلقات میں ہمیشہ کشیدگی رہی، آصف نواز،وحید کاکڑ،جہانگیر کرامت کےساتھ کشیدگی رہی، نواز شریف اور راحیل شریف کے درمیان معاملات بس ٹھیک تھے۔

یہ بات انہوں نے اے آر وائی نیوز کے پروبرام الیونتھ آور میں شرکت کے دوران میزبان وسیم بادامی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کچھ نہ کچھ ایسا کرتے ہیں جس سے سول ملٹری تعلقات میں کشیدگی آجاتی ہے اس لیے ان کی ہر دور میں اپنے آرمی چیف سے تعلقات میں کشیدگی رہی،آصف نواز،وحید کاکڑ،جہانگیر کرامت کے ساتھ کشیدگی رہی، راحیل شریف سے معاملات بھی بس ٹھیک ہی تھے۔

واضح نہیں اسلامی اتحاد کس کے خلاف کارروائی کرے گا؟

اسلا می اتحاد کے سوال پر انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر ایسا فوجی اتحاد نہیں بننا چاہیے جو فرقہ وارانہ ہو، اسلامی ملکوں کی اتحادی افواج کا معاملہ نازک ہے، پاکستان کو اسلامی ملکوں کی اتحادی فوج کا حصہ نہیں بننا چاہیے، اسلامی اتحادی فوج کی کامیابی کے امکانات ہوں تو حصہ بنے، یہ بات مبہم ہے کہ اسلامی اتحادی فوج کس کے خلاف کارروائی کرے گی، سعودی عرب،ایران اور ترکی کے درمیان پاکستان رابطہ کار ہے۔

نواز شریف کی جگہ ہوتا تو اب تک استعفیٰ دے چکا ہوتا

پاناما لیکس کے سوال پر انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم اور ان کی فیملی کا بہت مذاق اڑ چکا، اگر ان کی جگہ میں ہوتا تو اب تک استعفیٰ دے چکا ہوتا، شیخ رشید نے صحیح کہا ہے کہ پپو دو پرچوں میں فیل اور تین میں کمپارٹ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاناما کیس کا فیصلہ کنفیوز ہے، ہر شخص وکٹری کا نشان بنا رہا ہے۔

شفاف انتخابات ہوئے تو ن لیگ ہار جائے گی، پی ٹی آئی مضبوط ہے

مشرف نے انتخابات پر کہا کہ ن لیگ حکومتی مشینری کو غلط استعمال کرتی ہے،الیکشن میں حکومتی مشینری سے ہی ن لیگ جیت جاتی ہے اگر شفاف انتخابات ہوئے تو ن لیگ نہیں جیت سکتی، شفاف انتخابات ہوئے تو پی ٹی آئی کی پارٹی مضبوط ہے تاہم سندھ میں عمران خان کی انتخابات سے متعلق کوئی حکمت عملی نہیں ہے۔

تیسری سیاسی قوت بننے کے لیے پاکستان آنا چاہتا ہوں

انہوں نے کہا کہ ملک میں تیسری سیاسی قوت کی کمی ہے، اگر پاکستان میں آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت اور سیکیورٹی ملی تو تیسری سیاسی قوت بننے کے لیے پاکستان آنا چاہوں گا لیکن حالات موافق نہ ہوئےتو پاکستان نہیں آؤں گا۔

انتخابات میں قائد متحدہ کے نمائندے فاروق ستار اور مصطفی کمال کو ہرادیں گے

الطاف حسین سے متعلق پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ کراچی میں بانی ایم کیو ایم کا اب بھی گہرا اثر ہے، مصطفیٰ کمال اور فاروق ستار عوام کو اپنا اسیر نہیں بناسکے، ان دونوں کو عوام میں پذیرائی حاصل نہیں ہے انتخابات میں فاروق ستار کے سامنے بانی ایم کیو ایم کےنمائندےجیت جائیں گے۔

احسان اللہ اور کلبھوشن میں فرق ہے، کلبھوشن کو ہرصورت پھانسی دی جائے

کلبھوشن یادیو پر انہوں نے کہا کہ احسان اللہ اور کلبھوشن میں فرق ہے، کلبھوشن یادیو دہشت گرد ہے اسے ہر صورت پھانسی دی جائے، افغان سرحد پر پاکستان کے خلاف بھارت متحرک ہے، بھارت پاکستان کے خلاف دہشت گردوں کو ہوا دیتا ہے۔

ایران کے مقابلے میں عربوں نے ہماری زیادہ مدد کی

انہوں نے کہا کہ ایران کےساتھ سرحد کے معاملے پر مذاکرات ہوسکتے ہیں،ایران کے مقابلے میں عرب خطے نے ہماری زیادہ مدد کی ہے، عرب خطے کے لیے ہمیں کردار ادا کرناچاہیے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں