The news is by your side.

Advertisement

بڈھ بیر:ایئرفورس کیمپ پر دہشتگردوں کا حملہ،کیپٹن سمیت 29 افراد شہید، 13دہشتگردہلاک

پشاور : ایئرفورس کیمپ پر دہشتگرد حملے میں کیپٹن اسفند یار سمیت تین ٹیکنیشنز اور سولہ نمازی شہید ہوگئے جبکہ جوابی کارروائی میں تیرہ دہشتگرد مارے گئے۔

پشاور کے علاقے بڈھ بیر میں پاک فضائیہ کے کیمپ پر شدت پسندوں نے علی الصبح چھ بجے کر بائیس منٹ پر حملہ کیا، پاک فوج اور فضائیہ کے دستوں اور کوئیک رسپانس فورس نے دہشتگردوں کے حملوں کو پسپا کرکے دشمنوں کو منہ توڑ جواب دیا۔

آئی ایس پی آر کےمطابق دہشت گرد سفید بوٹ اورملیشیا وردی پہنے ہوئے تھے، حملہ آور کیمپ میں دو راستوں سے داخل ہوئے اور پھر دو گروہوں میں تقسیم ہوگئے، کیمپ پر موجود جوانوں نے جوان مردی سے ڈٹ کر مقابلہ کیا اور بھاری ہتھیاروں سے لیس حملہ آوروں کی پیش قدمی روک دی، جس کے بعد دہشت گردوں کا ایک گروہ مسجد میں داخل ہوا اور مسجد میں نمازیوں پر فائرنگ کردی، گولیوں کی زدمیں آکرسولہ نمازی شہید ہوگئے۔

حملے میں شہید ہونے والے بیس افراد کی نمازِ جنازہ ادا کردیگئی نمازِ جنازہ میں  آرمی چیف راحیل شریف، ایئر چیف سہیل امان، وزیراعظم نواز شریف، وزیردفاع خواجہ آصف اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک سمیت کثیر تعداد میں افراد نے شرکت کی۔

آرمی چیف اور وزیراعظم نے سی ایم ایچ پشاور کا بھی دور کیا جہاں انہوں نے حملے میں زخمی ہونے والے افراد کی عیادت کی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق  ائیرفورس کیمپ پر حملے میں 13دہشتگرد مارے چکے ہیں۔


بڈھ بیرایئربیس پرحملہ آور دہشت گرد افغانستان سے آئے تھے: ڈی جی آئی ایس پی آر


 

 

پشاور ایئر بیس پر حملہ، کیپٹن اسفند یار شہید

 

پشاور کے علاقے بڈھ بیر میں ایئر بیس پر حملہ میں بہادری سے لڑتے ہوئے کیپٹن اسفند یار شہید ہوگئے۔

کیپٹن اسفند نے چار دہشتگردوں کو بھی ہلاک کیا، مقابلے میں شدید زخمی ہونےکے بعد کپٹین اسفند نے شہادت کا رتبہ پایا۔

کیپٹن اسفند یار شہید دہشتگردوں کے خلاف آپریشن میں اپنے دستے کی قیادت کر رہے تھے، 102بریگیڈ میں جے تھری کے فرائض سرانجام دے رہے تھے ،  شہید کیپٹن اسفند یار نے سوارڈ آف آنر بھی حاصل کیا تھا، سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کیپٹن اسفندیار نے قیادت کرکے دہشت گردوں کے گروپ کو گھیر ا اور نشانہ بنایا، کیپٹن اسفند کو جنگی حکمت عملی کے کورس میں میڈل سے نوازا گیا۔

کیپٹن اسفندیار نے کاکول اکیڈمی سے سورڈ آف آنر بھی حاصل کیا ،کیپٹن افراد ایک سو اٹھارہ پی ایم اے لانگ کورس سے فارغ التحصیل ہوئے تھے کیپٹن کا تعلق الیون فرنٹئیرفورس رینجمنٹ سے تھا۔

Former COAS Ashfaq Pervaiz Kayani awarding Sword of Honour to Isfand Yar Bokhari, best cadet 118th PMA Long Course in October 2008.

 

 

پشاور ایئرفورس کیمپ پر حملہ، 3 جونیئر ٹیکنیشنز شہید

آئی ایس پی آر کے مطابق پشاور ایئرفورس کیمپ پر حملے میں جونیئر ٹیکنیشنز شان اور طارق اور ثاقب شہید ہوگئے ہیں، جونیئرٹیکنیشن شان، طارق اور ثاقب نے پانچ دہشتگردوں کو ٹھکانے لگاکر جام شہادت نوش کیا۔

پشاور ایئر بیس حملہ، کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے ذمہ داری قبول کرلی

بڈھ بیر ائیر فورس کیمپ پر حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی ، کالعدم ٹی ٹی پی کے ترجمان محمد خراسانی نے غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کو ایک ای میل کے ذریعے حملے کی ذمہ داری سے متعلق مطلع کیا۔

وزیراعظم اور آرمی چیف پشاور پہنچ گئے

آرمی چیف جنرل راحیل شریف آپریشن کا جائزہ لینے کے لیے پشاور پہنچے، آرمی چیف اور ائرچیف کو دہشتگردوں کے حملے اور آپریشن پر بریفنگ دی گئی۔ جنرل راحیل شریف اور سہیل امان نے سی ایم ایچ میں زخمیوں کی عیادت کی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق کور ہیڈکوارٹر میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور سربراہ پاک فضائیہ سہیل امان کو بیس کیمپ پر حملے اور آپریشن سے متعلق بریفنگ دی گئی۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے ائیر مارشل سہیل امان کے ہمراہ سی ایم ایچ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے بڈھ بیرحملے کے زخمیوں کی عیادت کی۔ زخمیوں سے ملاقات کے دوران انہوں نے جوانوں کے بلند حوصلے کی تعریف کی۔

 

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق شدت پسندوں نے کیمپ کے گارڈ روم پر حملہ کیا اور حصار توڑ کر اندر داخل ہونے کی کوشش کی، جس پر سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کو گارڈ روم  تک محدود کردیا، کارروائی کے دوران متعدد دھماکے بھی سنے گئے، دہشتگرد اہم تنصیبات کو نقصان پہنچانے میں ناکام رہے، پولیس ، ایلیٹ فورس اور سیکیورٹی فورسز کے مزید دستے بھی موقع پر پہنچ گئے، آپریشن میں کوئیک ری ایکشن فورس نے بھی حصہ لیا، سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی جانب سے پورے علاقے کا محاصرہ کر کے آپریشن کلیئرنس جاری ہے، تین ہیلی کاپٹروں کے ذریعے آپریشن کی فضائی نگرانی کی جارہی ہے۔    ذرائع کے مطابق سات سے دس دہشت گردوں نے کیمپ پر حملہ کیا اور جوابی کارروائی میں چھ دہشت گرد مار گئے جبکہ میجر حسیب سمیت چار جوان زخمی ہوگئے، جنہیں سی ایم ایچ منتقل کردیا گیا ہے۔  

حملہ میں استعمال ہونے والی گاڑی

آپریشن کی قیادت بریگیڈئیرعنایت نے کی، پاک فضائیہ کے ذرائع کے مطابق پاک فضائیہ کےناردرن سیکٹرمیں سیکیورٹی ریڈالرٹ کردی گئی ہے، فضا ئیہ کےاسپیشل سروسزونگ نےعلاقے کا کنٹرول سنبھال لیا ہے، علاقے کی فضائی نگرانی مسلسل جاری ہے۔  پاک فضائیہ کے ذرائع کےمطابق بڈھ بیر آپریشنل بیس نہیں ہے ، رہائشی علاقہ ہے۔ اس بیس پراسٹرٹیجک اثاثے موجود نہیں، پاک فضائیہ کے تمام بیسز پرسکیورٹی ریڈ الرٹ کردی گئی ہے، فضائیہ کے تمام اثاثے محفوظ ہیں ۔      پشاور کے تمام اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے، بڈھ بیر اور اطراف میں سرچ آپریشن جاری ہے جبکہ علاقے کے تعلیمی ادارے بھی بند کردیئے گئے ہیں۔  میجر جنر عاصم سلیم باجوہ کے مطابق دہشت گردوں نے کیمپ کے رہائشی علاقے اور دفاتر کو نشانہ بنایا، دہشت گرد بیس کے اندر داخل ہونا چاہتے تھے، سات سے دس حملہ آوروں نےسکیورٹی حصار توڑ کر کیمپ میں گھسنے کی کوشش کی۔ دونوں جانب سے شدید فائرنگ کی گئی جبکہ متعدد شدید نوعیت کے دھماکوں کی آوازیں بھی سنائی دیں۔ جسکے نتیجے میں میجر سمیت 10 سکیورٹی اہلکار زخمی ہوگئے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں