ہفتہ, فروری 7, 2026
اشتہار

پشاور سینٹرل جیل حملہ کیس، اے جی آفس نے اے ٹی سی فیصلے کے خلاف اپیل کو ان فٹ قرار دے دیا

اشتہار

حیرت انگیز

پشاور (29 ستمبر 2025): پشاور سینٹرل جیل حملہ کیس میں اے جی آفس نے اے ٹی سی فیصلے کے خلاف اپیل کو ان فٹ قرار دے دیا۔

ایڈوکیٹ جنرل آفس خیبرپختونخوا نے پشاور سینٹرل جیل پر ہونے والے حملہ کیس میں پی ٹی آئی کے بری ہونے والے کارکنوں کی بریت کے فیصلے کے خلاف پراسیکیوشن کی اپیل سے متعلق رائے دیتے ہوئے اسے ان فٹ قرار دے دیا ہے اور اسے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اپیل جمع کیے جانے کے قابل نہیں ہے، کیوں کہ ٹرائل کورٹ نے درست فیصلہ دیا ہے۔

واضح رہے کہ اے ٹی سی کورٹ پشاور نے سینٹرل جیل پر حملے کے مقدمے میں نامزد پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنوں عرفان سلیم، عصمت اللہ، محمد جلال، سجاد بنگش، صادق خان اور علامہ اقبال کو مقدمے سے بری کر دیا تھا۔

پی ٹی آئی نے 2023 میں جیل بھرو تحریک شروع کیا تھا، اس سلسلے میں پی ٹی آئی کے رہنما اور کارکنان پشاور سینٹرل جیل کے سامنے جمع ہوئے تھے۔ نگران حکومت نے پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنان کے خلاف احتجاج پر مقدمہ درج کیا تھا، ملزمان کے خلاف ٹرائل شروع کیا گیا، 9 ستمبر کو انسداد دہشتگری عدالت پشاور نے عرفان سلیم اور دیگر پی ٹی آئی کارکنان کو مقدمے سے بری کر دیا۔

علی امین گنڈا پور کی بانی پی ٹی آئی سے اڈیالہ جیل میں 3 گھنٹے طویل ملاقات

پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ نے ملزمان کی بریت کے خلاف اپیل دائر کرنے کے لیے ایڈووکیٹ جنرل آفس خیبرپختونخوا سے رابطہ کیا، ایڈووکیٹ جنرل آفس نے کیس کا جائزہ لینے کے عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کو مسترد کر دیا، ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا شاہ فیصل اتمانخیل نے بتایا کہ اے جی آفس نے اس کیس کو دیکھا اور عدالت نے جو ملزمان کی بریت کا جو فیصلہ دیا ہے اس کے خلاف اپیل کو مسترد کیا ہے اور اے ٹی سی پشاور کا جو فیصلہ ہے وہ درست ہے۔

جب پی ٹی آئی کی حکومت صوبے میں آئی تو وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے اس وقت کہا تھا کہ سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے کیسز کو واپس لیا جائے گا، 9 مئی کے بعد صوبے اور پورے ملک میں سیاسی بنیادوں پر پی ٹی آئی کارکنان کے خلاف مقدمات بنائے گئے، ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا شاہ فیصل اتمانخیل نے بتایا کہ 9 مئی کے کیسز ہوں یا جو بھی کیس ہوں، سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے ہوں تو انھیں واپس لیا جائے گا۔

+ posts

اہم ترین

مزید خبریں