The news is by your side.

Advertisement

خیبر پختونخوا: عدالت نے کرشنگ پلانٹس کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دے دیا

پشاور: عدالت نے مردان میں کرشنگ پلانٹس کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق کے پی کے شہر مردان کے مختلف علاقوں میں لگے کرشنگ پلانٹس سے پیدا ہونے والی ماحولیاتی آلودگی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے ضلعی انتظامیہ کو غیر قانونی طور پر لگائے گئے کرشنگ پلانٹس کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جن کارخانوں سے ماحولیاتی مسائل پیدا ہو رہے ہیں، جو ماحول کے لیے نقصان دہ ہیں، ان کے خلاف کارروائیاں تیز کی جائیں، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہاں پر دریاؤں کا بیڑا غرق کر دیا گیا ہے، مائننگ ڈیپارٹمنٹ نے غیر قانونی لیز دے کر بہت سے مسائل پیدا کر دیے ہیں۔

کیس کی سماعت شروع ہوئی تو ڈپٹی کمشنر، ڈی پی او مردان زاہد اللہ، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سید سکندر حیات شاہ اور درخواست گزار کے وکیل عدالت میں پیش ہوئے۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مردان میں کرشنگ پلانٹس گھروں کے قریب لگائے گئے ہیں۔ جن سے سانس کی مختلف بیماریاں پھیلنے کا خدشہ ہے، اس پر چیف جسٹس قیصر رشید خان نے ریمارکس دیے کہ اگر اس حوالے سے کوئی غیر قانونی لیز جاری کی گئی ہے، تو اس کو ہم اسکریپ کر دیں گے، ہم نے پہلے بھی ایسے لیز اسکریپ کیے ہیں، آبادی کے قریب جو کرشنگ پلانٹس لگائے گئے ہیں ان کے خلاف انتظامیہ کارروائی تیز کرے۔

ڈپٹی کمشنر مردان حبیب اللہ نے عدالت کو بتایا کہ عدالتی احکامات کی روشنی میں بڑے پیمانے پر آپریشنز کیے ہیں، متعدد غیر قانونی کرشنگ پلانٹس کو سیل کیا گیا ہے، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر مردان زاہد اللہ نے عدالت کو بتایا کہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ابھی تک 70 ایف آئی آر درج کیے جا چکے ہیں، 18 ایف آئی آر اس سال درج ہوئے ہیں، جب کہ 21 افراد کو گرفتار کیا گیا، پولیس فورس ہر وقت کسی بھی دوسرے ادارے کی مدد کے لیے تیار رہتی ہے۔

کرشنگ پلانٹس مالکان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ انھوں نے کرشنگ پلانٹس کے لیے قانونی طور پر لیز لیا ہے، اور پلانٹ آبادی سے 700 میٹر دور ہے، لیکن پھر بھی ان کو بند کیا گیا ہے۔

اس پر ڈپٹی کمشنر مردان نے عدالت کو بتایا کہ سارے امور کی نگرانی کی جا رہی ہے، جو لیز قانون کے مطابق اور آبادی سے مطلوبہ فاصلے پر ہے، ان کھول دیا جائے گا۔ اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم کسی کا کاروبار بند کرنا نہیں چاہتے لیکن ہم یہ بھی نہیں چاہتے کہ کوئی انسانی صحت کے ساتھ کھیلے اور ماحول کو خراب کرے۔

عدالت نے ڈپٹی ڈائریکٹر انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی ممتاز علی کو متعلقہ علاقوں کا دورہ کرنے کا حکم دے دیا، اور کہا کہ وہ دیکھیں کہ کون سے علاقے میں ایس او پیز پر عمل نہیں ہو رہا، عدالت نے ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او کو سارے امور کی نگرانی سخت کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 17 مئی تک ملتوی کر دی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں