The news is by your side.

Advertisement

خیبر پختونخوا اسمبلی اراکین کے ترقیاتی فنڈز کا معاملہ عدالت پہنچ گیا

پشاور: خیبر پختون خوا اسمبلی اراکین کے ترقیاتی فنڈز کا معاملہ عدالت پہنچ گیا، آج پشاور ہائی کورٹ میں مسلم لیگ ن کے ایم پی اے کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر اہم سماعت ہوئی۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق جمعرات کو پشاور ہائی کورٹ میں پی کے 55 مردان سے پاکستان مسلم لیگ ن کے منتخب رکن صوبائی اسمبلی جمشید مہمند کی جانب سے، حلقے کا ترقیاتی فنڈ منصوبے کی منظوری کے باوجود روکے جانے کے خلاف دائر درخواست پر جسٹس روح الامین اور جسٹس اعجاز انور پر مشتمل دو رکنی بنچ نے سماعت کی۔

درخواست گزار کے وکیل اور رکن صوبائی اسمبلی خوشدل خان ایڈوکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار پی کے 55 مردان سے رکن صوبائی اسمبلی ہیں، اپوزیشن سے تعلق ہونے کی وجہ سے حکومت نے ان کے حلقے کے ترقیاتی فنڈ کو روک دیا ہے۔

جسٹس روح الامین نے ریمارکس دیے کہ حکومت نے اگر اپوزیشن ارکان کے ساتھ امتیازی سلوک کرنا ہے، تو اپوزیشن ارکان کو ڈی نوٹیفائی کرنے کے لیے اقدامات کیوں نہیں کر لیتے، حکومت نے اگر اپوزیشن ارکان کو ہر معاملے میں نظر انداز کرنا ہے تو سادہ الفاظ میں کہہ دے کہ آپ کے پاس اکثریت نہیں ہے باہر بیٹھ جائیں۔

جسٹس روح الامین نے ریمارکس دیے کہ بدقسمتی سے ہر دور میں ایسا ہوتا ہے جب کوئی وزیر اعلیٰ بنتا ہے تو مجموعی سوچ کی بجائے صرف اپنے حلقے کے لوگوں کے لیے سوچتا ہے۔

جسٹس اعجاز انور نے استفسار کیا کہ ایک منصوبے کی انتظامی سطح پر منظوری کے بعد بھی اسے کس طرح واپس لیا گیا، کیا صرف ایک حلقہ ایسا ہے جس کے لیے فنڈز نہیں ہیں، اگر فنڈز نہیں ہیں تو پھر تمام حلقوں کے لیے نہیں ہوں گے، صرف اپوزیشن ارکان کو کیوں نشانہ بنایا گیا۔

جسٹس روح الامین نے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل سے استفسار کیا کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ نے فنڈز کی تقسیم کے لیے میکنزم بنانے کا حکم دیا ہے، کیا آپ کو پتا ہے؟ متعلقہ لوگوں نے صرف اپنے حکام بالا کو خوش کرنے کے لیے اس حلقے کا فنڈ روکا، اور منصوبے کو نکال دیا، اس اقدام سے صرف اس حلقے کے عوام ہی متاثر ہوں گے۔

ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ فنڈز کی کمی ہے، جیسے ہی فنڈز کا مسئلہ حل ہوگا تو اس ٹینڈر کو دوبارہ کھولا جائے گا، اس پر جسٹس روح الامین نے کہا کہ جب اس منصوبے کی منظوری دی جا رہی تھی تو اس وقت یہ معلوم نہیں تھا کہ فنڈ نہیں ہے، اس سے لگتا ہے کہ متعلقہ حکام نے دباؤ میں یا کسی کو خوش کرنے کے لیے اپوزیشن ارکان کے فنڈز کو روکا، لیکن ہم کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کرنے دیں گے۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ جب فنڈ منظور ہو جائے اور ایڈمنسٹریٹیو منظوری دی جائے، تو وہ واپس نہیں ہو سکتا، یہ واحد حکومت ہے جس میں فنڈز نہ ملنے پر ارکان اسمبلی نے وزیر اعلیٰ ہاؤس کے سامنے احتجاج کیا تھا، حکومت کے ایسے اقدامات سے لوگوں میں بے چینی پھیلتی ہے۔

عدالت نے ایم پی اے جمشید مہمند کی درخواست باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو اس حلقے کے ڈرافٹ شدہ منصوبوں کو واپس ای بڈنگ میں شامل کرنے کا حکم دے دیا، عدالت نے قرار دیا کہ فریقین اگر کوئی جواب جمع کرنا چاہتے ہیں تو وہ اپنا جواب جمع کروا سکتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں