The news is by your side.

Advertisement

بی آر ٹی منصوبہ: پشاور ہائی کورٹ نے منصوبہ بندی نہ ہونے پر افسوس کا اظہار کر دیا

پشاور: بس ریپڈ ٹرانزٹ منصوبے کی تکمیل کے سلسلے میں تاخیر پر پشاور ہائی کورٹ نے پشاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی سے سوال کر لیا، جسٹس قیصر رشید نے استفسار کیا کہ منصوبے میں اتنی تاخیر کیوں ہو رہی ہے؟

تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز پشاور ہائی کورٹ میں واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کیس کی سماعت کے دوران جسٹس قیصر رشید نے پی ڈی اے کے ڈائریکٹر جنرل سے پوچھا کہ بی آر ٹی مسئلہ کب حل ہو رہا ہے؟

کیس کے سلسلے میں عدالت کے سامنے ڈی جی پی ڈی اے، سی ای او ڈبلیو ایس ایس پی، اور چیف انجینئر پی ڈی اے پیش ہوئے۔

پشاور ہائی کورٹ نے تینوں اعلیٰ حکام کو شہر کا دورہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ بارش میں شہر کا دورہ کریں، آپ کو عوامی مسائل کا اندازہ ہوگا، جہاں نکاس آب کا مسئلہ ہے اس کو حل کریں۔

جسٹس قیصر رشید نے پوچھا ڈی جی پی ڈی اے بتائیں بی آر ٹی مسئلہ کب حل ہو رہا ہے؟ اس منصوبے کی تکمیل میں اتنی تاخیر کیوں ہو رہی ہے؟ ڈی جی پی ڈی اے نے عدالت کو بتایا کہ انھوں نے بس 3 دن قبل ہی عہدے کا چارج سنبھالا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  بی آر ٹی منصوبہ، پیپلزپارٹی نے پرویزخٹک کیخلاف نیب میں درخواست جمع کرا دی

جسٹس قیصر نے استفسار کیا کہ بارش کا پانی سیلاب کی طرح بہتا ہے، کیا بی آر ٹی کا نتیجہ عوام کو ملے گا؟ چیف انجینئر نے جواب دیا کہ وہ ابھی نکاسی آب کے لیے نالے بنا رہے ہیں، اس سے مسئلہ حل ہو جائے گا۔

جسٹس قیصر رشید نے کہا کہ چیف انجینئر صاحب آپ کو پہلے پتا نہیں تھا نکاسی آب کا؟ کیا اب دوبارہ سڑکیں کھو دیں گے، افسوس کہ آپ لوگوں نے پہلے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی۔

دریں اثنا عدالت نے متعلقہ حکام کو ڈیڑھ ماہ میں نکاسی آب کا مسئلہ حل کرنے کا حکم جاری کیا، بعد ازاں کیس کی سماعت 12 جون تک ملتوی کر دی گئی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں