The news is by your side.

Advertisement

بہت سارے لوگ خط لہراتے ہیں اور وہ جھوٹے ہوتے ہیں، پشاورہائیکورٹ

پشاور ہائی کورٹ کے جج جسٹس روح الامین نےایک کیس کے دوران  ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بہت سارے لوگ ہوا میں خط لہراتے ہیں، قطر، امریکا اور جرمنی سے خط آتے ہیں اور وہ جھوٹے ہوتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس روح الامین اور جسٹس اشتیاق ابرہیم  پر مشتمل دو رکنی بینچ نے پی ایچ ڈی کے لیے جرمنی جانے والے شہری کی نوکری ختم کرنے سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

درخواست گزار منتظر عباس کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کا موکل پشاور یونیورسٹی میں بطور ریسرچ ایسوسی ایٹ ملازم تھا، وہ پی ایچ ڈی کی غرض سے جرمنی گیا۔

انہوں نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے منتظر عباس وقت پر پی ایچ ڈی مکمل نہیں کرسکا، جس پر  پشاور یونیورسٹی نے نوکری ختم کر دی۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کہا کہ جرمن یونیورسٹی سے خط حاصل کیا گیا ہے ،جس میں یونیورسٹی نے بتایا ڈگری کورونا کی باعث تاخیر کا شکار ہوئی۔

جسٹس  روح الامین نے ریمارکس دیےکہ بہت سارے لوگ ہوا میں خط لہراتے ہیں، قطر، امریکا، جرمنی سے خط آتے ہیں اور وہ جھوٹے ہوتے ہیں۔

عدالت نےپشاور یونیورسٹی سے جواب طلب کرتے ہوئےکیس کی سماعت ملتوی کردی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں