پشاور: پشاور کے علاقے تہکال میں پیش آنے والے المناک آتشزدگی کے واقعے کی ابتدائی رپورٹ میں آگ لگنے کی ممکنہ وجہ اے سی میں گیس لیکیج اور شارٹ سرکٹ قرار دے دی گئی۔
تفصیلات کے مطابق پشاور کے علاقے تہکال میں گزشتہ روز پیش آنے والے آتشزدگی کے ہولناک واقعے کی پولیس نے ابتدائی رپورٹ تیار کر لی ہے، جس میں افسوسناک سانحے کی وجوہات اور نقصانات کی تفصیلات سامنے آئیں۔
پولیس کی ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا کہ آتشزدگی کا یہ خوفناک واقعہ ایک مکان کے اندر بنے فرنیچر کے کارخانے میں پیش آیا، آگ لگنے کی بنیادی وجہ اے سی میں گیس لیکیج اور شارٹ سرکٹ بتائی گئی ہے۔
آگ اتنی شدید تھی کہ اس نے دیکھتے ہی دیکھتے پورے مکان اور کارخانے کو لپیٹ میں لے لیا، جس کے نتیجے میں پورا فرنیچر کارخانہ جل کر راکھ کا ڈھیر بن گیا۔
اس اندوہناک حادثے میں ایک ہی خاندان کے 6 افراد جھلس کر دم توڑ گئے، جن میں میاں بیوی اور ان کے چار معصوم بچے شامل ہیں۔
جاں بحق ہونے والوں کی شناخت 55 سالہ سراج ، اہلیہ ناہید بی بی ، 11 سالہ ابو حریرہ، 9 سالہ ہانیہ ، 4 سالہ حسنین اور 3 سالہ مناحل شامل ہیں۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ٹیمیں اور مقامی افراد فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچے اور مشترکہ امدادی کارروائیوں کے بعد آگ پر قابو پا لیا گیا، تاہم مکان کے اندر موجود کسی بھی فرد کو بچایا نہ جا سکا۔
پولیس نے واقعے کی رپورٹ درج کر کے مزید قانونی اور تکنیکی تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔
یاد رہے گذشتہ رات پشاور کے علاقے تہکال کے ایک گھر میں اچانک آگ بھڑک اٹھی تھی، جس میں میاں، بیوی اور ان کے چار بچے جاں بحق ہوگئے تھے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق تمام افراد کی موت دھوئیں کے باعث دم گھٹنے سے ہوئی جبکہ پڑوسیوں کا کہنا تھا کہ گھر کے برآمدے میں تیار فرنیچر کے ساتھ تھینر اور دیگر کیمیکل بھی رکھے ہوئے تھے۔
متوفی سراج منیر فرنیچر فیکٹری کا مالک تھا اور اسی گھر کو شو روم کے طور پر بھی استعمال کرتا تھا۔


