پشاورحملہ: دہشت گرد افغانستان میں ساتھیوں سے رابطے میں تھے -
The news is by your side.

Advertisement

پشاورحملہ: دہشت گرد افغانستان میں ساتھیوں سے رابطے میں تھے

راولپنڈی : ڈی جی آئی ایس پی آرمیجرجنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ پشاور میں حملہ کرنے والے دہشت گرد افغانستان میں اپنے ساتھیوں سے رابطے میں تھے۔

تفصیلات کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آرمیجرجنرل آصف غفورنے اے آروائی نیوزسے گفتگوکرتے ہوئےبتایا کہ کلیئرنس آپریشن مکمل ہوچکا، فورسز کی بروقت کارروائی میں تینوں دہشت گرد مارے گئے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق 8 بجکر 45 منٹ پر دہشت گرد رکشے سے زرعی ڈائریکٹوریٹ پہنچے، تینوں دہشت گرد خودکش حملہ آورتھے۔

میجرجنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ دہشت گرد افغانستان میں قیادت سے رابطے میں تھے، کالعدم ٹی ٹی پی کا حملے کی
ذمہ داری قبول کرنا افغانستان سے دہشت گردی کا ثبوت ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پاکستان نے حملے کے ثبوت افغان ڈی جی ایم او کے حوالے کردیے۔

انہوں نے بتایا کہ پولیس نے فوری طورپربہترین رسپانس دیا، فورسزنےقوم کو بڑی دہشت گردی سے بچا لیا۔

میجرجنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ آپریشن 10 بجے تک مکمل کیا گیا جبکہ دہشت گردوں سے بڑی تعداد میں گولہ بارود برآمد ہوا۔


پشاور: زرعی ڈائریکٹوریٹ پرحملہ‘ وزیراعظم سمیت سیاسی رہنماؤں کی مذمت


ڈی جی آئی ایس پی آر میجرجنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ حملےمیں چوکیدار اور7 طلبہ شہید ہوئے۔

انہوں نے بتایا کہ دہشت گردوں کےخلاف افغانستان میں کام کی ضرورت ہے، دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس شیئرنگ مؤثرثابت ہوگی۔

میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ پاکستان میں جوکام کرنا ہے وہ ہم کررہے ہیں، دیکھا جائے افغانستان میں اسٹیک ہولڈر کیا کام کررہے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ افغانستان میں کارروائی افغان فوج نے ہی کرنی ہے،افغان فوج کی بھرپورمدد کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 30 لاکھ افغان مہاجرین موجود ہیں، 30 لاکھ افغان مہاجرین میں سہولت کاروں کی شناخت مشکل کام ہے۔

میجرجنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ افغان مہاجرین کا اپنے ملک واپس جانا ضروری ہے جبکہ نیشنل ایکشن پلان پرمکمل طورپرعمل کی ضرورت ہے۔


پشاور: زرعی ڈائریکٹوریٹ پردہشت گرد حملہ


واضح رہے کہ پشاور میں زرعی ڈائریکٹوریٹ پردہشت گردوں کے حملے میں 9 افراد شہید، 35 زخمی ہوگئے جبکہ تینوں دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا۔


اگرآپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پرشیئرکریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں