جامعہ پشاور کے طلبہ کا احتجاج، لاٹھی چارج اور پتھراؤ -
The news is by your side.

Advertisement

جامعہ پشاور کے طلبہ کا احتجاج، لاٹھی چارج اور پتھراؤ

پشاور: جامعہ پشاور کے طلبہ کا فیسوں میں اضافے کے خلاف احتجاج شدت اختیار کرگیا جس کے بعد پولیس حرکت میں آگئی۔ پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج کیا گیا جبکہ متعدد طلبہ کو گرفتار بھی کرلیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق جامعہ پشاور کے طلبہ نے فیسوں میں اضافے کے خلاف احتجاج شروع کیا جو جلد ہی ناخوشگوار صورتحال میں تبدیل ہوگیا۔

پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا جبکہ متعدد طلبہ کو گرفتار بھی کرلیا گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ طلبہ کی جانب سے پتھراؤ بھی کیا گیا جس سے 2 اہلکار زخمی ہوگئے۔ زخمی اہلکاروں کو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

ادھر مظاہرین کا مؤقف ہے کہ ہم پرامن احتجاج کر رہے تھے پولیس نے تشدد کیا۔

دوسری جانب صوبہ خیبر پختونخواہ کے وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی کا کہنا ہے کہ کوئی قانون ہاتھ میں لے گا تو قانون حرکت میں آئے گا۔ قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت کسی کو نہیں۔

انہوں نے کہا کہ خود اسٹوڈنٹ لیڈر رہا ہوں، ایسی صورتحال پر افسوس ہے۔

ہاسٹل پر بااثر طلبہ نے قبضہ کیا ہے

ترجمان جامعہ پشاور علی عمران کا کہنا ہے کہ جامعہ پشاور خود مختار سرکاری ادارہ ہے، جامعہ کے ہاسٹل پر با اثر طلبہ نے قبضہ کیا ہوا تھا، ہاسٹل سے با اثر طلبہ کو نکال دیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ جامعہ پشاور میں دفعہ144 نافذ ہے، طلبہ کو جامعہ میں احتجاج سے روکا گیا تھا لیکن سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والے طلبہ احتجاج کر رہے ہیں۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ جامعہ پشاور کی انتظامیہ اصولی مؤقف پر قائم ہے، بڑی جامعات میں سیاسی پارٹیوں کے پریشر گروپس موجود ہوتے ہیں۔ اس قسم کے پریشر گروپس کے ذریعے صورتحال بگاڑی جاتی ہے اور مطالبات منوائے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کامیاب آپریشن کر کے ہاسٹل کے 300 کمرے وا گزار کروائے، ہاسٹل کے کمرے وا گزار کروانے کے خلاف ردعمل دیا جا رہا ہے۔ سیاسی مقاصد کے لیے طلبہ کو استعمال کیا جا رہا ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ دفعہ 144 کے باوجود جامعہ میں 5 گھنٹے سے احتجاج جاری تھا، طلبہ کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن حالات اس نہج پر پہنچائے گئے۔ ’لاٹھی چارج کر کے باہر سے آنے والوں کو منتشر کیا جا رہا ہے‘۔

بلاول بھٹو کی مذمت

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے پشاور یونیورسٹی کے طلبہ پر تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پرامن احتجاج طلبہ کا جمہوری حق ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکمران ہوش کے ناخن لیں اور ناکامیوں کا بدلہ طلبہ سے نہ لیں، جامعہ پشاور کے طلبہ اپنے حقوق کے لیے احتجاج کر رہے تھے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں