The news is by your side.

Advertisement

علی جہانگیر صدیقی کی امریکا میں سفیر تعیناتی: اٹارنی جنرل سے تحریری جواب طلب

اسلام آباد: علی جہانگیر صدیقی کو امریکا میں بطور پاکستانی سفیر تعینات کرنے کے معاملے پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے اٹارنی جنرل سے اگلی سماعت پر تحریری جواب طلب کر لیا۔

تفصیلات کے مطابق علی جہانگیر صدیقی کو امریکا میں بطور پاکستانی سفیر تعینات کرنے کے کیس کی سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے سنگل رکنی بنچ جسٹس اطہر من اللہ نے کی۔

وفاق کی جانب سے اٹارنی جنرل آف پاکستان اشتر اوصاف، علی جہانگیر صدیقی کی جانب سے وسیم سجاد ایڈووکیٹ جبکہ درخواست گزار شہزاد صدیق علوی کی جانب سے حسن مان اور بیرسٹر سجیل شہریار عدالت میں پیش ہوئے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کیا وزیر اعظم کو اختیار ہے کہ سفیر کی تعیناتی کے معاملے پر صوابدیدی اختیار استعمال کرے؟ جس پر درخواست گزار کے وکیل حسن مان نے بتایا کہ وزیر اعظم کو سفیر کی تعیناتی کے لیے کوئی صوابدیدی اختیار نہیں ہے۔ دفتر خارجہ میں سفیر کی تعیناتی کا طریقہ کار موجود ہے۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے غیر قانونی طور پر اپنے کاروباری شراکت دار کو امریکا میں بطور پاکستانی سفیر تعینات کرنے کی منظوری دی۔ انہوں نے استدعا کی کہ عدالت علی جہانگیر صدیقی کی تعیناتی میرٹ کے برعکس ہونے کی بنا پر کالعدم قرار دے۔

علی جہانگیر صدیقی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ابھی تک علی جہانگیر صدیقی کے بحیثیت امریکا سفیر کے لیے نوٹی فکیشن جاری نہیں ہوا۔

جسٹس اطہر من اللہ نے اٹارنی جنرل اشتر اوصاف سے استفسار کیا کہ کیریئر ڈپلومیٹس کو کیوں نظر انداز کیا گیا؟ یہ عوامی مفاد کا کیس ہے۔

اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے عدالت کو بتایا کہ کہ وفاق نے اگریما امریکی حکومت کو بھیج دیا ہے۔ اب امریکی حکومت کے جواب کا انتظار ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ عدالت کو یقین دلاتے ہیں کہ اس معاملے پر عدالت کو اعتماد میں لیا جائے گا اور علی جہانگیر صدیقی کی تعیناتی کا بطور پاکستانی سفیر نوٹی فیکیشن اسلام آباد ہائیکورٹ کے نوٹس میں لائے بغیر جاری نہیں کریں گے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ آپ کی بات کو عدالتی حکم کا حصہ بنا لوں؟ جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ اس بات کو عدالتی حکم کا حصہ نہ بنائیں مگر میں عدالت کو یقین دلاتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر اگر عدالت حکم امتناع جاری کرتی ہے تو پاکستان کا امیج خراب ہو گا۔

جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت آپ کی بات پر یقین کرتی ہے۔ آپ کی بات کو عدالتی حکم کا حصہ نہیں بنایا جارہا لیکن آپ آئندہ سماعت پر تحریری جواب جمع کروائیں۔

کیس کی مزید سماعت 2 مئی تک ملتوی کر دی گئی۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں