The news is by your side.

Advertisement

نوازشریف پراربوں ڈالربھارت بھیجنے کا الزام ، چیئرمین نیب کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر

اسلام آباد : سپریم کورٹ میں چیئرمین نیب کے خلاف درخواست دائر کردی گئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ پریس ریلیز نواز شریف کوبدنام کرنے کے لیے جاری کی گئی، چیئرمین نیب سے غیر مشروط معافی مانگنے کا حکم دیا جائے۔

تفصیلات کے مطابق ن لیگی کارکنان چیئرمین نیب کے خلاف کھل کرسامنے آگئے، چیئرمین نیب کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی ، درخواست مسلم لیگ ن جاپان کےعہدیدارکی جانب سےدائرکی گئی۔

درخواست میں چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کوفریق بنایا گیا اور کہا کہ سیاسی مخالفین کاکام الزام لگا کر سیاسی مفاد حاصل کرنا ہے۔

دائر درخواست میں کہا گیا کہ 8مئی کو چیئرمین نیب نےایک پریس ریلیز جاری کی گئی، پریس ریلیز میں نواز شریف کے پیسے بھارت منتقل کرنے کا ذکر ہے، معلومات عالمی بینک کی مائیگریشن اینڈریمیٹنس بک 2016 سے لی گئی جبکہ اسٹیٹ بینک اس الزام کو 21 ستمبر 2016 کو مسترد کر چکا ہے۔

درخواست میں کہا گیا کہ پریس ریلیز نواز شریف کوبدنام کرنے کے لیےجاری کی گئی، پریس ریلیز کےاجرا سےنیب کی ساکھ پر سوال اٹھ چکے ہیں۔

مسلم لیگ ن کے عہدیدار کی جانب سے استدعا کی گئی ہے کہ پریس ریلیز جاری کرنے کی تحقیقات اور چیئرمین نیب سے غیر مشروط معافی مانگنے کا حکم دیا جائے۔

یاد رہے چند روز قبل قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال نے سابق نواز شریف اور دیگر کے خلاف4.9 بلین ڈالر بھارت بھجوانے کی
میڈیا رپورٹس کا نوٹس لیتے ہوئے جانچ پڑتال کا حکم دیا تھا۔

نیب ترجمان کے مطابق ورلڈ بینک مائیگریشن اینڈ رمیٹنس بک 2016 میں ذکر موجود ہے کہ نواز شریف نے بڑی رقم بھارت بجھوائی، رقم بھجوانے سے بھارت کے غیر ملکی ذخائر میں اضافہ ہوا۔


مزید پڑھیں: نواز شریف کے خلاف 4.9 بلین ڈالر بھارت بھجوانے کی شکایت


ترجمان کا کہنا تھا کہ منی لانڈرنگ سے رقم بھجوانے پر پاکستان کو نقصان اٹھانا پڑا جس کی تحقیقات کی جائیں گی۔

جس کے بعد وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے قومی اسمبلی میں نیب چیئرمین کو طلب کرنے اور خصوصی کمیٹی بنا کر تحقیقات کروانے کا مطالبہ کیا تھا۔

نواز شریف نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ چیئرمین نیب نے میری کردار کشی سمیت قومی مفاد کو بھی نقصان پہنچایا۔ چیئرمین نیب 24 گھنٹے میں ثبوت لائیں ورنہ معافی مانگیں یا مستعفی ہو کر گھر چلے جائیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں