لاہور : لاہور ہائی کورٹ میں 27 ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواست دائر کردی ، جس میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت 27 ویں آئینی ترمیم کو فوری طور پر معطل کرتے ہوئے کالعدم قرار دے۔
تفصیلات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ میں ستائیسویں آئینی ترمیم کے خلاف آئینی درخواست دائر کر دی گئی، درخواست ایڈووکیٹ اظہر صدیق کی جانب سے جمع کرائی گئی ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ نئی ترمیم آئین کے بنیادی ڈھانچے سے متصادم ہے۔ درخواست گزار کے مطابق ترمیم کے ذریعے سپریم کورٹ کا اختیار ختم کرکے وفاقی آئینی عدالت کو بالادست بنا دیا گیا ہے، جس سے سپریم کورٹ کی حیثیت کمزور پڑنے اور عدلیہ کی آزادی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ ترمیم کے نتیجے میں پاکستان کی 60 سالہ عدالتی تاریخ مسخ ہو گئی ہے۔
درخواست گزار کے مطابق موجودہ قومی اسمبلی آئین ساز اسمبلی نہیں ہے، اس لیے اسے اتنی بڑی آئینی ترمیم کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔
درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ یہ ترامیم اسلامی دفعات، عدالتی خودمختاری اور بنیادی حقوق کے خلاف ہیں۔ پارلیمنٹ میں ترمیم پر نہ تفصیلی بحث کی گئی اور نہ ہی شفاف قانون سازی کا طریقہ اپنایا گیا۔
درخواست گزار کے مطابق وکلا، سول سوسائٹی، صحافیوں اور دیگر طبقات سے بھی کوئی رائے نہیں لی گئی، جس کے بعد منظور کی گئی ترمیم آئینی اور جمہوری تقاضوں کے برخلاف ہے۔
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت 27ویں آئینی ترمیم کو فوری طور پر معطل کرتے ہوئے کالعدم قرار دے۔
عابد خان اے آروائی نیوز سے وابستہ صحافی ہیں اور عدالتوں سے متعلق رپورٹنگ میں مہارت کے حامل ہیں


