بدھ, اپریل 15, 2026
اشتہار

نواز شریف اور مریم نواز کیخلاف نیب انکوائری بند کرنے کی درخواست منظور

اشتہار

حیرت انگیز

لاہور: احتساب عدالت لاہور نے نواز شریف اور مریم نواز کیخلاف چوہدری شوگر ملز کی نیب انکوائری بند کرنے کی درخواست منظور کر لی۔

تفصیلات کے مطابق نیب لاہور نے قانون کے مطابق چوہدری شوگرملز انکوائری بند کرنے کی درخواست کی تھی جس پر احتساب عدالت کے جج رانا محمد عارف نے سماعت کی۔

عدالت نے نیب انکوائری بند کرنے کی درخواست منظور کرتے ہوئے کہا کہ مریم نواز اپنی 7کروڑ ضمانت کی رقم واپس  لے سکتی ہیں۔

چوہدری شوگر ملز کے ذریعے کرپشن کے طریقے نے ماہرین کو حیران کر دیا

نیب دستاویزات کے مطابق چوہدری شوگر مل نے نواز شریف دور میں غیر معمولی ترقی کی، بیرون ملک سے مشکوک سرمایہ کاری بھی نواز دور میں آئی، 1991 میں نواز شریف نے 1.3 ملین کے اثاثہ جات ظاہر کیے تھے، مریم نواز نے 1.4 ملین کے اثاثہ جات ظاہر کیے، جب کہ حسن، حسین، شہباز اور یوسف عباس نے اثاثہ جات ظاہر نہیں کیے تھے، دوسری طرف حقیقت یہ تھی کہ1991 میں شریف خاندان کی مالی حیثیت ایسی نہ تھی کہ مل لگائی جاتی، 5 اگست 1991 کو 0.5 ملین کی قلیل رقم سے چوہدری شوگر مل لگائی گئی، مل میں اس وقت زیادہ حصص شریف خاندان کے کزنز کے تھے، 30 ستمبر 1991 کو شہباز شریف مل کے سی ای او بن چکے تھے حالاں کہ ان کا نام شیئر ہولڈرز کی فہرست میں نہیں تھا۔

کرپشن اور منی لانڈرنگ سے کارپیٹنگ تک چوہدری شوگر ملز سے متعلق نئے انکشافات

30 ستمبر 1991 کو کمپنی کے اثاثہ جات 19.8 ملین روپے ظاہر کیے گئے، اس وقت مل کے 40 فی صد حصص عباس شریف کے نام پر تھے، 60 فی صد مل میاں شریف کے مختلف بھائیوں اور اولاد کے نام تھی، مل سراج خاندان نے لگائی مگر شریف خاندان کے حصص میں اضافہ ہوا، سراج خاندان کو ہی اس مل کے حصص سے محروم کر دیا گیا، سراج خاندان کی جانب سے ایف آئی اے میں بھی درخواست دی گئی تھی، جس کے مطابق انھیں مل کی ڈائریکٹرشپ سے جعل سازی کے ذریعے راتوں رات محروم کیا گیا۔

چوہدری شوگر مل کیس:مریم نواز کی نیب درخواست جرمانے کے ساتھ خارج کرنے کی استدعا

30 مارچ 1995 کو مریم نواز چوہدری شوگر ملز کی سی ای او بن گئیں، مریم نواز کے مطابق چوہدری شوگر ملز کے معاملے سے آگاہ نہیں لیکن سی ای او رہیں، ان کے بعد حسین نواز چوہدری شوگر ملز کے سی ای او بن گئے، حسین نواز کے بعد 2003 میں مل کی باگ ڈور حمزہ شہباز نے سنبھالی۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں