کراچی (18 اگست 2026): ایران اور امریکا تنازع بڑھنے سے ایک بار پھر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں کیا پٹرول 500 روپے فی لیٹر تک ہو سکتا ہے۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روز کی بنیاد پر اضافہ ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے غریب پاکستانیوں کی کمر ٹوٹتی جا رہی ہے۔ گزشتہ روز بھی پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 5 اور 6 روپے فی لیٹر تک اضافہ کر دیا گیا۔
پٹرول کی قیمتیں پاکستان میں کہاں تک جا سکتی ہیں اور کیا پٹرول کی قیمت فی لیٹر 500 روپے تک چھو سکتی ہے۔
اس حوالے سے ماہر معاشیات ڈاکٹر خاقان نجیب نے اے آر وائی نیوز کے مارننگ شو باخبر سویرا میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی بہت مہنگا ہونے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے ذرائع سے ملک میں انرجی پیدا نہیں کی۔
ڈاکٹر خاقان نجیب نے کہا کہ ہم آج بھی 14 سے 18 ارب روپے کی پٹرولیم مصنوعات باہر سے خریدتے ہیں۔ اگر اپنے ذرائع سے بجلی بنائی ہوتی، گاڑیاں چلائی ہوتیں تو آج یہ حالت نہ ہوتی۔
ان کا کہنا ہے کہ حکومتوں نے شارٹ ٹرم کام کیے، لانگ ٹرم پلاننگ نہیں کی۔ اگر ریفائنریز پر کام کیا ہوتا تو ایران اور روس سے سستا کروڈ لے کر اس کو اپنے ملک میں ریفائن کر سکتے تھے۔
میزبان نے سوال کیا کہ پٹرول کی قیمت کہاں جا کر رکے گی کیا 500 روپے فی لیٹر پر اسٹاپ ہوگی؟
ماہر معاشیات نے کہا کہ اس وقت پٹرول پر فی لیٹر 114 روپے کا ٹیکس ہے، اس میں 85 روپے لیوی ہے۔ انہوں نے ٹیکس وصولی میں ناکامی کا حل لیوی نکالا ہے۔ کاربن میں ہمارا حصہ انتہائی کم لیکن آئی ایم ایف کے کہنے پر 5 روپے کاربن لیوی ٹیکس لگا دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت شارٹ کٹ چھوڑ کر لانگ ٹرم اقدامات نہیں کرے گی اور خود انحصاری کی راہ پر نہیں اؔٓئیں گے تو ہم پانچ سال بعد بھی اسی مقام پر کھڑے ہوں گے۔ انہوں نے تجویز دی کہ لیوی کو 18 فیصد پر فکس کر کے جی ایس ٹی کے مساوی کر دیا جائے۔


