منگل, اگست 18, 2026
اشتہار

پٹرول کی فی لیٹر قیمت میں حکومت کا کتنا حصہ ہے؟ ہوشربا رپورٹ

اشتہار

حیرت انگیز

ایران امریکا کشیدگی کے بعد پاکستان میں پٹرول مہنگا ہونے کی اصل وجہ عالمی قیمتیں ہیں یا اس سے بھی زیادہ وہ رقم ہے جو لیوی اور ٹیکسز کی مد میں لوگوں کی جیبوں سے نکالی جا رہی ہے؟

اس اہم معاملے پر اے آر وائی نیوز کے پروگرام سوال یہ ہے میں سینئر صحافی ماریہ میمن نے اپنے تجزیے میں تفصیلی روشنی ڈالی۔

انہوں نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر اپنے تجزیے میں کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ ضرور آیا، تاہم پاکستان میں عوام پر پڑنے والا اصل بوجھ صرف عالمی قیمتوں کی وجہ سے نہیں بلکہ پٹرولیم لیوی اور دیگر ٹیکسز کی بلند شرح بھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے ایک بار پھر پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے لیکن اس اضافے کے ساتھ سب سے زیادہ سوال پٹرولیم لیوی پر اٹھ رہے ہیں۔

ماریہ میمن کے مطابق سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ اس وقت ایک لیٹر پٹرول پر تقریباً 80 روپے پٹرولیم لیوی اور 20 روپے سے زائد کسٹمز ڈیوٹی وصول کی جا رہی ہے، یعنی تقریباً 315 روپے فی لیٹر کے پٹرول میں 100 روپے سے زیادہ رقم مختلف لیویز اور ڈیوٹیز کی مد میں حکومت کو جاتی ہے۔ ان کے مطابق اس صورتحال میں صرف عالمی منڈی کو مہنگائی کی وجہ قرار دینا درست نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ صحافی خلیق کیانی کی رپورٹ کے مطابق رواں سال مارچ کے آغاز میں پٹرول کی قیمت 267 روپے فی لیٹر تھی، جو مسلسل اضافے کے بعد 458.41 روپے تک جا پہنچی، جبکہ ڈیزل 281 روپے سے بڑھ کر 520.35 روپے فی لیٹر کی بلند ترین سطح تک پہنچ گیا۔

رپورٹ کے مطابق حکومت ایک لیٹر ہائی اسپیڈ ڈیزل پر تقریباً 80 روپے پٹرولیم لیوی، 5 روپے کلائمیٹ سپورٹ لیوی، 16 روپے کسٹمز ڈیوٹی اور دیگر چارجز وصول کر رہی ہے، جس سے مجموعی حکومتی وصولی تقریباً 101 روپے فی لیٹر بنتی ہے۔ اسی طرح پٹرول پر تقریباً 70 روپے پٹرولیم لیوی، 5 روپے کلائمیٹ سپورٹ لیوی اور 20 روپے کسٹمز ڈیوٹی وصول کی جا رہی ہے، جس سے مجموعی وصولی تقریباً 95 روپے فی لیٹر بنتی ہے۔

ماریہ میمن نے اپنے تجزیے میں ایک صحافی کے اٹھائے گئے سوالات کا بھی حوالہ دیا، ان کے مطابق ابتدا میں پٹرولیم لیوی کا مقصد 18 فیصد جی ایس ٹی کے متبادل کے طور پر آمدن حاصل کرنا تھا تاکہ یہ رقم صوبوں کے ساتھ تقسیم نہ کرنا پڑے، کیونکہ آئین کے مطابق جی ایس ٹی کی آمدن صوبوں میں تقسیم کی جاتی ہے جبکہ پٹرولیم لیوی وفاق کے پاس رہتی ہے۔

تجزیے کے مطابق اگر حکومت صرف 18 فیصد جی ایس ٹی کے مساوی ٹیکس وصول کرے تو پٹرولیم لیوی تقریباً 41 روپے فی لیٹر بنتی، مگر اس وقت عوام سے 80 روپے فی لیٹر وصول کیے جا رہے ہیں، یعنی ہر لیٹر پر تقریباً 40 روپے اضافی بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔

ماریہ میمن نے کہا کہ اس صورتحال میں یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا وفاقی حکومت ایسے اخراجات پورے کرنے کے لیے عوام پر اضافی بالواسطہ ٹیکس عائد کر رہی ہے جو آئینی طور پر صوبوں کی ذمہ داری سمجھے جاتے ہیں؟

اس کے ساتھ ہی یہ آئینی سوال بھی موجود ہے کہ کیا قومی اسمبلی حکومت کو یہ اختیار دے سکتی ہے کہ وہ پٹرولیم لیوی کی شرح بغیر کسی مقررہ بالائی حد کے جتنی چاہے بڑھا دے؟

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں