The news is by your side.

Advertisement

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں‌ ریکارڈ اضافہ

اسلام آباد: وزارتِ خزانہ نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں فی لیٹر ہوشربا اضافہ کردیا، نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات سے ہوگا۔

اے آر وائی نیوز  کی رپورٹ کے مطابق وزارت خزانہ نے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کی سفارش پر پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 25 روپے 58 پیسے کا اضافہ کردیا۔

پیٹرول کی قیمت اضافے کے بعد 100 روپے 10 پیسے تک پہنچ گئی، اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 21 روپے 31 پیسے اضافے کے بعد 101 روپے 46 پیسے فی لیٹر تک پہنچ گئی۔

وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹی فکیشن کے مطابق مٹی کاتیل23روپے50پیسےفی لیٹرمہنگا ہوگیا جس کے بعد فی لیٹر قیمت 59 روپے 6 پیسے تک پہنچ گئی، لائٹ ڈیزل کی قیمت17روپے84پیسےاضافے کے بعد 55 روپے 98 پیسے فی لیٹر تک پہنچ گئی۔

وزارت خزانہ کے نوٹی فکیشن کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کااطلاق آج یعنی 26 جون کی رات12 بجےسےہوگا۔

قبل ازیں آئل گیس اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی نے پٹرول کی قیمت میں25روپے58پیسےفی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر21 روپے31پیسےاضافے کی سفارش کی تھی۔

اوگرا نے مٹی کےتیل کی قیمت میں بھی23روپے50پیسےفی لیٹراضافےکی سفارش  جبکہ لائٹ ڈیزل کی قیمت میں بھی17 روپے84پیسےفی لیٹراضافےکی سفارش کی تھی۔

اوگرا نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری وزارت خزانہ کو ارسال کی تھی جسے وزارت خزانہ نے منظور کر کے نئی قیمتوں کا نوٹی فکیشن جاری کردیا۔

مزید پڑھیں: ’ذخیرہ اندوزوں کی کمر توڑیں گے‘ : وفاقی وزیر کا 72 گھنٹوں میں پیٹرول کی قلت ختم کرنے کا اعلان

یاد رہے کہ حکومت نے 31 مئی کو پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں مزید 7 روپے 6 پیسے کمی کا اعلان کیا تھا جس کے بعد یکم جون سے نئی قیمت 74 روپے 52 پیسے فی لیٹر تک پہنچ گئی تھی۔ وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹی فکیشن میں بتایا گیا تھا کہ ڈیزل کی قیمت 5 پیسےاضافےکےساتھ80روپے 15 پیسے تک پہنچ گئی جبکہ مٹی کےتیل کی قیمت گیارہ روپے 88 پیسے کمی کے بعد 35روپے 56 پیسے ہوگئی، اسی طرح لائٹ ڈیزل 9 روپے 37 پیسے فی لیٹر کم ہو کر 38 روپے 14 پیسے فی لیٹر ہوگیا تھا۔

یکم جون کو  قیمتیں کم ہونے کے بعد ملک بھر میں پیٹرول کی قلت پیدا ہوگئی تھی جس کی وجہ سے شہریوں کو دربدر ٹھوکریں کھانا پڑیں تھیں، وزیر اعظم نے قلت کا نوٹس لیا اور فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کو تحقیقات کا حکم دیا تھا۔

ایف آئی اے نے پیٹرول کی قلت پیدا ہونے کے بعد مختلف آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے عہدیداران سے تفتیش کی تھی، وفاقی وزیر برائے توانائی عمر ایوب نے دعویٰ کیا تھا کہ چند کمپنیاں پیٹرول مہنگے داموں فروخت کرنے کے لیے قلت پیدا کررہی ہیں، ہم کسی کو منافع خوری کی اجازت نہیں دیں گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں