کراچی (07 مارچ 2026): پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے پر نظر ثانی کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ پٹرول قیمتوں میں ایک ہفتے میں 63 روپے کے اضافسے کاروباری سرگرمیاں ہل کر رہ گئی ہیں۔
پاکستان بزنس فورم کے صدر خواجہ محبوب الرحمان نے کہا کہ کہا جا رہا تھا کہ ابھی تو ملک میں 18 دن سے زائد کا اسٹاک موجود ہے، اور بزنس کمیونٹی توقع کر رہی تھی حکومت بوجھ خود بھی برداشت کرے گی، لیکن غیر معمولی حالات میں پیٹرولیم لیوی کو مزید بڑھا دینا سمجھ سے بالاتر ہے؟
انھوں نے کہا پیٹرولیم مصنوعات کے نئے ریٹ سے مہنگائی کا نیا طوفان آئے گا، رمضان میں متوسط طبقے کو سحر و افطار میں مشکلات پیدا ہوں گی، حکومت سے مطالبہ ہے کہ پٹرولیم لیوی کو فوری طور 50 فی صد کم کیا جائے۔
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ
خواجہ محبوب الرحمان کا کہنا تھا کہ موجودہ برینٹ پر حکومت لیوی کم کرے تو پرانے نرخ پر بہ آسانی پٹرول دستیاب ہوگا، غیر معمولی حالات میں حکومت کو عوام اور بزنس کمیونٹی کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے، حکومت ساتھ کھڑی نہیں ہوتی تو کم از کم اپنی سرکاری ایندھن کی سہولت ہی ختم کر دے۔
بزنس فورم کا کہنا ہے کہ پرانے اسٹاک کو راتوں رات مہنگا کر کے آئل ڈپو اور پیٹرول پمپس کی چاندی ہو گئی ہے، مطالبہ ہے کہ حکومت ایک ماہ کے لیے پیٹرولیم مصنوعات پر محصولات ٹارگٹ کو ترک کر دے۔
انجم وہاب اے آر وائی نیوز سے وابستہ ہیں اور تجارت، صنعت و حرفت اور دیگر کاروباری خبریں دیتے ہیں


