مشرق وسطیٰ میں جاری جنگی صورتحال کے سبب پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں غیرمعمولی اضافے نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔
جنگ سے قبل پیٹرول کی قیمت 266 روپے فی لیٹر تھی جو اب 415 روپے تک جا پہنچا ہے، اس رقم میں تقریباً 198 روپے مختلف ٹیکسز کی مد میں لیے جارہے ہیں، جس میں لیوی، فریٹ چارجز اور ڈسٹری بیوشن مارجن شامل ہیں۔
اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں نمائندہ اے آر وائی نیوز نے اس معاملے پر تفصیلی گفتگو کی اور قیمتوں کے اضافے کی وجوہات سے آگاہ کیا۔
انہوں نے بتایا کہ خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسوں کا بوجھ کہیں زیادہ ہے۔
وزیرِپیٹرولیم کے مطابق حکومت نے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے پروگرام کے تحت پیٹرولیم لیوی میں اضافہ کیا کیونکہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں قرض کی قسط کی منظوری میں مشکلات پیش آسکتی تھیں۔
حکومتی حکام کے مطابق رواں مالی سال کے دوران پیٹرولیم لیوی کی مد میں تقریباً 1464 ارب روپے جمع کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا، جبکہ صرف 9 ماہ میں 1200 ارب روپے سے زائد وصول کیے جا چکے ہیں، حکام کا کہنا ہے کہ حکومت باآسانی اپنا مقررہ ہدف حاصل کرلے گی۔
اس وقت پیٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت تقریباً 271 روپے ہے جبکہ عوام کو فی لیٹر پیٹرول پر تقریباً 170سے 180 روپے اضافی ادا کرنا پڑ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کا ہدف حاصل نہ ہونے کے باعث آئی ایم ایف نے ریونیو بہتر کرنے کا کہا تھا اسی لیے خسارہ پورا کرنے کے لیے لیوی کی شرح بڑھائی گئی جبکہ دوسرا بڑا مسئلہ یہ تھا کہ ملک میں زیادہ پیٹرول درآمد نہ کیا جائے کیونکہ عالمی آئل سپلائی چین متاثر تھی قیمت میں اضافے کی وجہ یہ بھی ہے تاکہ طلب میں کمی لائی جا سکے۔
’پچھلے ہفتے عالمی سطح پر پیٹرول کی قیمتیں کم ہوئی لیکن حکومت نے بڑھا دیں‘
Shoaib Nizami reports Finance, Fedeal Board of Revenue, Planning , Public Accounts, Banking, Capital Market, SECP, IMF, World Bank, Asian Development Bank, FATF updates for ARY News


