The news is by your side.

Advertisement

پٹرول اور ڈیزل کی قیمت بڑھائی جائے یا نہیں، مسلم لیگ (ن) کی قیادت تقسیم ہو گئی

اسلام آباد: ملک میں ریکارڈ مہنگائی کے دوران پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ناگزیر اضافے کے معاملے پر شہباز شریف حکومت مخمصے کا شکار ہو گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق ملک میں معاشی صورت حال خراب تر ہوتی جا رہی ہے، ایسے میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھائیں یا نہیں ن لیگ ایک مشکل دو راہے پر پھنس گئی ہے۔

ایک طرف مہنگائی کا طوفان ہے اور دوسری طرف بجلی کا بحران، اس صورت حال میں کیے گئے دعوے ن لیگ کے گلے پڑتے نظر آ رہے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت اس بات پر تقسیم ہو گئی ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمت بڑھائی جائے یا نہیں، دوسری طرف آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمان بھی پٹرول کی قیمتیں بڑھانے کے مخالف ہیں۔

موجودہ صورت حال میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانا مسلم لیگ (ن) کے لیے ایک اور چیلنج بن گیا ہے، پٹرول کی قیمتیں بڑھائی جائیں گی تو مہنگائی کا طوفان آئے گا اور ملبہ مسلم لیگ (ن) پرگرے گا۔

پٹرول 46 اور ڈیزل 84 روپے فی لیٹر مہنگا کرنے کی تیاری

عمران خان حکومت نے 30 جون تک پٹرول اور ڈیزل پر سبسڈی کا انتظام کر رکھا تھا، جب کہ شہباز شریف حکومت سبسڈی کی رقم ہونے کے باوجود کیوں مینج نہیں کر پا رہی، جب کہ شہباز شریف حکومت ایل این جی کی قیمت میں پہلے ہی 40 فی صد اضافہ کر چکی ہے۔

واضح رہے کہ پٹرول کی قیمت میں 46 اور ڈیزل کی قیمت میں 84 روپے فی لیٹر تک اضافہ ہو سکتا ہے، اس سلسلے میں اوگرا نے قیمتوں میں اضافے کی سمری حکومت کو ارسال کر دی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں