اسلام آباد : پیٹرولیم ڈویژن کے حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کا دستیاب ذخیرہ ایک ماہ کے لیے کافی ہے تاہم اگر علاقائی تناؤ بڑھتا ہے تو پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔
تفصیلات کے مطابق سینیٹر منظور کاکڑ کی زیرِ صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں پیٹرولیم ڈویژن کے حکام نے ملک میں تیل و گیس کی سپلائی، درآمدی معاہدوں اور علاقائی صورتحال کے اثرات پر تفصیلی بریفنگ دی۔
حکام نے کمیٹی کو خبردار کیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی پاکستان کی توانائی کی حفاظت کے لیے بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔
حکام کا کہنا تھا کہ اگر علاقائی تناؤ بڑھتا ہے تو پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے، کیونکہ پاکستان کی زیادہ تر مصنوعات خلیجی ممالک سے آتی ہیں۔
حکام نے بتایا کہ یہ خطہ عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم ہے، یہاں تک کہ چین کی 45 فیصد پیٹرولیم مصنوعات کی راہ گزر بھی یہی علاقہ ہے۔
ملک میں ایندھن کی دستیابی سے متعلق پیٹرولیم ڈویژن نے کہا کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کا دستیاب ذخیرہ فی الوقت ایک ماہ کی ضروریات کے لیے کافی ہے۔
حکام نے دعویٰ کیا کہ ملک میں گیس کی موجودہ صورتحال بہتر ہے اور گیس کنوؤں سے براہِ راست قومی گرڈ میں گیس شامل کرنے کا عمل یقینی بنایا گیا ہے تاہم قطر سے گیس کی مکمل سپلائی بحال ہونے میں ابھی مزید دو سے تین سال لگ سکتے ہیں۔
بریفنگ میں انکشاف کیا گیا کہ قیمتوں میں اضافے کے باوجود ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے استعمال میں کمی کے بجائے اضافہ دیکھا گیا ہے۔
حکام نے بتایا کہ آر ایل این جی طویل المدتی معاہدوں کے ذریعے پاکستان لائی جا رہی ہے تاکہ سپلائی میں تسلسل برقرار رہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


