The news is by your side.

Advertisement

امریکی کورونا وائرس ویکسین کی آزمائش شروع

امریکی دوا ساز اور اس کی جرمن شراکت دار کمپنی نے کہا ہے کہ انہوں نے اپنی تجرباتی کورونا وائرس کی ویکسین کی آزمائش شروع کردی ہے۔

پی فزر انک اور بایونٹیک کمپنی نے ایک بیان میں بتایا کہ ابتدائی انسانی جانچ کے لیے اپنی تجرباتی کورونا ویکسین کی مقدار کو امریکا میں فراہم کرنے کا آغاز کر دیا ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ اگر یہ ویکسین آزمائشوں میں محٖفوظ اور موثر ثابت ہوئی تو اسے بڑے پیمانے پر رواں سال کے آخر تک امریکا بھر میں پہنچایا جا سکے گا جس سے روایتی ویکسین کی تیاری کے حوالے سے درکار سالوں کی مدت کا وقت ختم ہو جائے گا۔

میسینجر آر این اے (ایم آر این اے) ٹیکنالوجی کے استعمال سے یہ ویکسین اس وائرس کے خلاف پہلی دوا میں شامل ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے جس نے ریاست ہائے متحدہ امریکا میں ایک ملین سے زیادہ افراد کو متاثر کیا ہے اور قریب 68 ہزار کو ہلاک کیا۔

فی الحال کوویڈ 19 کے لیے کوئی منظور شدہ علاج یا مصدقہ ویکسین موجود نہیں ہے تاہم ہنگامی ضروریات کے تحت کچھ ادویات کورونا مریضوں کے لیے استعمال کی جارہی ہیں۔

یہ امریکی تحقیق اور آزمائش ایک وسیع و عریض عالمی پروگرام کا حصہ ہے جو کہ جرمنی میں بھی جاری ہے جہاں بایونٹیک کمپنی کی بنیاد رکھی گئی۔

امریکی کمپنی نے گزشتہ ہفتے ہی اس امید کا اظہار کیا تھا کہ ہنگامی طور پر امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کی جانب سے اکتوبر کے شروع تک آزمائشی ویکسین کی اجازت مل جائے گی جس کے بعد وہ رواں سال کے آخر تک 20 ملین سے زائد ڈوز تقسیم کر سکیں گے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں