The news is by your side.

Advertisement

محققین کا آسٹرازینیکا کے مقابلے میں فائزر ویکسین کی تاثیر سے متعلق انکشاف

لندن: محققین نے آسٹرازینیکا کے مقابلے میں فائزر ویکسین کی تاثیر سے متعلق انکشاف کیا ہے کہ تین ماہ بعد اس میں تیزی سے کمی آ جاتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق برطانیہ میں ہونے والی ایک نئی تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا ہے کہ فائزر ویکسین کا اثر ڈیلٹا ویرینٹ کے خلاف تیزی سے کم ہوتا ہے، محققین کا یہ بھی کہنا ہے کہ فائزر ویکسین کی تاثیر آسٹرازینیکا کے مقابلے میں تیزی سے کم ہوتی ہے۔

فائزر کی ویکسین شروع میں کرونا کے ڈیلٹا ویرینٹ کے خلاف آسٹرازینیکا کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ثابت ہوئی تھی، لیکن نئی تحقیق میں یہ معاملہ الٹ ہو گیا ہے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے تصدیق کی ہے کہ کرونا کے ڈیلٹا ویرینٹ کے خلاف استعمال ہونے والی کسی بھی ویکسین کی 2 ڈوز کی مجموعی کارکردگی ایلفا ویرینٹ کے خلاف کم ہو چکی ہے، اور ویکسین لگوانے والے افراد سے بھی یہ وائرس دوسروں تک منتقل ہونے کا امکان ہے۔

تحقیق کے مطابق آسٹرازینیکا کی دوسری ڈوز کے تین ماہ بعد ویکسین کی تاثیر میں بہت کم تبدیلی دکھائی دی ہے، اس کے برعکس اسی دورانیے میں فائزر کے ذریعے فراہم کردہ تحفظ میں واضح کمی دکھائی دی ہے۔ تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ موڈرنا ویکسین کی ایک ڈوز ڈیلٹا ویرینٹ کے مقابلے میں دیگر ویکسینز کی واحد ڈوز کی طرح یا اس سے زیادہ تاثیر رکھتی ہے۔

تاہم کسی بھی ویکسین کی 2 ڈوز اب بھی قدرتی انفیکشن سے ایک ہی سطح کا تحفظ فراہم کرتی ہیں اور ابھی تک کوئی واضح شواہد نہیں ملے ہیں کہ یہ رائے قائم کی جا سکے کہ ویکسینز ڈیلٹا سے متاثرہ افراد کو اسپتال سے باہر رکھنے میں ناکام ہو رہی ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں