The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب میں فرعون کے دور کے آثار قدیمہ دریافت

ریاض: سعودی محکمہ آثارِ قدیمہ نے تیما میں فرعونی دور کے آثار دریافت کیے ہیں، جو تقریباً بارہ سو سال قبل مسیح کے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سعودی کمیشن برائے سیاحت اور قومی ورثہ کے زیرِ اہتمام سعودی عرب کے تاریخی اور آثار قدیمہ کے اعتبار سے انتہائی اہمیت کے حامل شمال مغربی شہر تیماء میں کھدائی کے دوران ’حیرو گلیفی‘ کا ایک نسخہ دریافت ہوا ہے جس فرعون کی مہر بھی موجود ہے۔

عرب خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ یہ آثار الزیدانیہ کے مقام سے دریافت ہوئے ہیں۔

ماہرین آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ انہیں کھدائی کے دوران ایک پھتر برآمد ہوا جس پر حیر گلیفی موجود تھی اور اس پر فرعونی بادشاہ ’رمسیس سوم‘ کی مہر بھی ثبت تھی۔

ماہرین آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ فرعونی بادشاہ ’رمسیس سوم‘ 12 سو سال قبل مسیح مصر کا حاکم تھا، تیما سے ایسی نوادرات کا دریافت ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ فرعون نے یہاں بھی قیام کیا ہوگا۔

تیما کے ڈائریکٹر برائے آثار قدیمہ نے بتایا کہ جو نسخہ الزیدانیہ کے مقام سے دریافت ہوا ہے ایسے تصویری نقوش صرف فرعون کے زمانے میں استعمال ہوتے تھے۔

واضح رہے کہ ’حیرو گلیفی‘ وہ نقوش ہیں جنہیں حروف کی ایجاد سے قبل لکھنے کےلیے استعمال کیا جاتا تھا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق کچھ ماہرین آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے شمالی مغربی علاقوں میں فرعونی بادشاہ ’رمسیس سوم‘ کے قیام پر شک ہے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل تیماء سے نبطی، آرامی اور ثمودی اقوام کے آثار دریافت ہوئے تھے۔

مزید پڑھیں : سعودی عرب سے ایک لاکھ سال قدیم آثاردریافت

یاد رہے کہ گزشتہ برس ستمبر میں سعودی محکمہ آثارِ قدیمہ نے دارالحکومت ریاض کے نزدیک پتھر کے دور سے تعلق رکھنے والے آثار دریافت کیے تھے، جو ایک لاکھ سال قدیم کے ہیں۔

یہ دریافت الخرج نامی پہاڑی سلسلے میں واقعے قصبے الشدیدہ میں ہوئی تھی اور یہ پہلی بار ہے کہ اس علاقے سے پتھر کے دور کی کوئی سائٹ دریافت ہوئی تھی۔

یہ دریافت سعودی عرب اور فرانس کے درمیان سنہ 2011 میں ہونے والے معاہدے کے تحت کی جانے والی کھدائی کے نتیجے میں کی گئی تھی، سعودے شہزادے سلطان بن سلمان کی جانب سے اس دریافت کو بے پناہ سراہا گیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں