لاہور (19 فروری 2026): پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) کے صدر طارق بگٹی نے ہاکی ٹیم کے کپتان عماد بٹ پر پابندی عائد کرکے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔
اکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر میر طارق بگٹی نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ انہوں نے اپنا استعفیٰ براہِ راست وزیراعظم اور فیڈریشن کے پیٹرن ان چیف شہباز شریف کو ارسال کیا، جس میں پاکستان اسپورٹس بورڈ کو قومی ٹیم کی آسٹریلیا میں ہونے والی بدانتظامی کا مکمل ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میر طارق بگٹی نے کہا کہ ہاکی فیڈریشن کو بھی کرکٹ بورڈ کی طرح مکمل خود مختار ہونا چاہیے تاکہ وہ اپنے وسائل خود پیدا کر سکے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کی جانب سے فنڈز جاری ہونے کے باوجود پی ایس بی ہوبارٹ، آسٹریلیا میں منعقدہ پرو لیگ 2025-26کے دوران کھلاڑیوں کے لیے رہائش، سفر اور کھانے کے انتظامات کرنے میں ناکام رہا۔
میر طارق بگٹی نے کہا کہ مخصوص عناصر نے فیڈریشن کے کام میں مسلسل رکاوٹیں کھڑی کیں جس کی وجہ سے لاجسٹک انتظامات مکمل طور پر بیٹھ گئے۔
ایک سخت فیصلے میں طارق بگٹی نے قومی ٹیم کے کپتان عماد شکیل بٹ پر بین الاقوامی اور مقامی ہاکی کھیلنے پر دو سال کی پابندی عائد کر دی ہے۔ انہوں نے کپتان اور چند کھلاڑیوں پر "سیاست” کرنے اور فیڈریشن کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا الزام لگایا۔
یہ استعفیٰ اس وقت سامنے آیا جب قومی ٹیم کے کھلاڑیوں نے آسٹریلیا میں اپنے ساتھ ہونے والے سلوک پر عوامی سطح پر احتجاج کیا۔ کپتان عماد شکیل بٹ اور دیگر کھلاڑیوں نے الزام لگایا تھا کہ انہیں ہوٹل کے بجائے ناقص ایئربن بی میں ٹھہرایا گیا۔
وطن واپسی پر قومی ہاکی ٹیم کے کپتان اور کھلاڑی پھٹ پڑے، پرفارمنس پر اعتراضات کا کرارا جواب
عماد شکیل نے وطن واپسی کے بعد بتایا تھا کہ کھلاڑیوں کو خود کھانا پکانا پڑا، برتن دھونے پڑے اور یہاں تک کہ ٹوائلٹ بھی خود صاف کرنے پر مجبور کیا گیا، ٹیم کو عبرتناک شکستوں کا سامنا کرنا پڑا اور کھلاڑیوں نے اسے "ذہنی تشدد” قرار دیا۔
مستعفی صدر نے وزیراعظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ اس تمام معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک غیر جانبدار انکوائری کمیٹی تشکیل دی جائے تاکہ ذمہ داران کا تعین کیا جا سکے۔
واضح رہے کہ پاکستان ہاکی، جو کبھی 1960، 1968 اور 1984 میں اولمپک گولڈ میڈل جیت کر عالمی قوت تھی، اب انتظامی مداخلت اور مالی بحران کی وجہ سے تنزلی کا شکار ہے۔
Sehri & Iftar Time in Pakistan- Ramadan 2026
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


