The news is by your side.

Advertisement

لاہور میں ہاکی ٹیم کے تربیتی کیمپ کا آغاز، 26 کھلاڑیوں نے رپورٹ کی

لاہور : پاکستان ہاکی ٹیم کا تربیتی کیمپ لاہور میں شروع ہوگیا، چند کھلاڑی نجی مصروفیات کے باعث شرکت نہ کرسکے، گول کیپر اور کیمپ سے غیر حاضر رہنے والے وقار یونس کو قواعد و ضوابط سے ہٹ کے پھر منتخب کرلیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق اولمپکس کوالیفائنگ راؤنڈ کی تیاری کے سلسلے میں پاکستان ہاکی ٹیم کا تربیتی کیمپ لاہور میں شروع ہوگیا، ٹریننگ کے پہلے سیشن میں26کھلاڑیوں نے رپورٹ کی۔

ذرائع کے مطابق کیمپ کے پہلے سیشن میں فزیکل ٹریننگ پر زور دیا گیا جبکہ شام کے سیشن میں ہاکی اسکیل پر توجہ دی جائے گی، دو کھلاڑی علی اور گول کیپر وقار یونس ڈار اکیڈمی کے ساتھ ہالینڈ میں موجود ہیں۔

دونوں کھلاڑی ایک دو روز میں کیمپ جوائن کریں گے جبکہ توثیق احمد والدہ کی بیماری کے سبب تاخیر سے کیمپ جوائن کریں گے۔

اس کے علاوہ عماد، شکیل بٹ، سمیع اللہ جونئیر، علی شان ابوبکر اور فیصل قادر بھی مختلف وجوہات کی بنا پر چند روز میں کیمپ جوائن کریں گے۔ غیر حاضر کھلاڑیوں نے پی ایچ ایف کو اپنی مصروفیات کے حوالے سے آگاہ کردیا ہے۔

ذرائع کے مطابق گول کیپر کیمپ سے تین گول کیپرز کا انتخاب کیا گیا ہے جن میں امجد علی، اکمل اور وقار یونس شامل ہیں، چوتھے گول کیپرکا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

علاوہ ازیں پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) کا صاف شفاف سلیکشن کا نعرہ ہوا میں اڑ گیا، ہاکی ٹیم کے گول کیپر اور کیمپ سے غیر حاضر رہنے والے وقار یونس پھر منتخب ہوگئے۔

گول کیپر وقار یونس ان دنوں ایک اکیڈمی کے ساتھ ہالینڈ میں موجود ہیں، وقار یونس نے گول کیپر کیمپ میں شرکت ہی نہیں کی، جبکہ تجربہ کار گول کیپر مظہر عباس کیمپ میں ٹریننگ کے باوجود منتخب نہ ہوسکے۔

اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ گول کیپر وقار یونس کو واٹس ایپ پیغام پر منتخب کیا گیا، چیف سلیکٹر منظور جونیئر نے واٹس اپ سلیکشن کیخلاف آواز اٹھائی تھی، جس کے بعد من پسند گول کیپرز کی سلیکشن پر سوالات اٹھنے لگے۔

مختلف حلقوں کی جانب سے پوچھا جا رہا ہے کہ موجودہ دور کے گول کیپر سلمان اکبر اور عمران بٹ کی خدمات کیوں حاصل نہ کی گئیں ؟ جدید سائنسی تکنیک سکھانے کیلئے نوے کی دہائی کا طریقہ کار اپنایا گیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں