The news is by your side.

Advertisement

فلپائن نے امریکیوں‌ کے لیے ویزا پابندیوں‌ کا عندیہ دے دیا

منیلا: فلپائن نے امریکی شہریوں اور سرکاری نمائندوں کے لیے نئی ویزا پابندیاں متعارف کرانے کا عندیہ دیتے ہوئے دو سینیٹرز کے داخلے پر پابندی عائد کردی۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکا نے فلپائن کے سرکاری حکام پر پابندی عائد کی جس کے جواب میں فلپائن نے دو امریکی سینیٹرز کے داخلے پر پابندی عائد کردی جبکہ شہریوں کے لیے نئی ویزا پالیسی متعارف کرانے کا عندیہ دیا۔

فلپائنی حکام کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر امریکا اپنے اقدامات سے باز نہ آیا تو امریکی شہریوں کے داخلے پر پابندی اور ویزا دینے میں سختی کی جائے گی۔

فلپائن کے صدارتی ترجمان سلواڈور پانیلو کا کہنا تھا کہ ’سینیٹر رچرڈ ڈربن اور پیٹرک لیہے پر ملک میں داخلے پر پابندی عائد کردی گئی۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’اگر امریکا اپنے بجٹ میں منشیات سے متعلق شق شامل نہ کری تو پھر ہم اُن کے شہریوں کے فلپائن میں داخل ہونے کے اقدامات کو مزید سخت کردیں گے‘۔

انہوں نے واضح کیا کہ فلپائن میں سیاحت کے لیے آنے والے امریکی شہریوں کو اب ایک مہینے کا مشروط ویزا دیا جائے گا، اگر وہ ہمارے نظام اور قومی خودمختاری میں مداخلت کریں گے تو اس سے بھی سخت اقدامات کیے جائیں گے‘۔

غیر ملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکا کی اپوزیشن رہنما اور انسانی حقوق کی سابق کمشنر سینیٹر لیلا ڈی لیما فلپائن کے صدر روڈریگو ڈوئیرٹو کے متنازع ڈرگ وار کی سخت ناقد ہیں اور وہ فروری 2017 سے منشیات کے الزام میں فلپائن میں ہی قید ہیں، ان کا دعویٰ ہے کہ وہ بے گناہ ہیں اور سیاسی مخالفین انہیں نشانہ بنا رہے ہیں۔

دوسری جانب ڈی لیما نے جیل سے جاری اپنے ایک خط میں امریکا سینیٹرز کا شکریہ ادا کیا ہے کہ انہوں نے فلپائنی عہدیداروں کے حوالے سے شق متعارف کروائی اور کہا کہ ‘استثنیٰ برقرار نہیں رہ سکتا’۔

Comments

یہ بھی پڑھیں