The news is by your side.

Advertisement

وہ عادت جو دل کے دورے کے وقت مرنے سے بچا سکتی ہے

امراض قلب میں مبتلا رہنا خطرے کی ایک گھنٹی ہے جو ہر وقت بجتی رہتی ہے، کسی بھی وقت دل کا دورہ پڑسکتا ہے جو جان لیوا بھی ثابت ہوسکتا ہے، تاہم ایک باقاعدہ عادت دل کا دورہ پڑنے پر زندگی بچانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

ماہرین طب کا کہنا ہے کہ ہارٹ اٹیک اس وقت ہوتا ہے جب دل کی جانب جانے والے دوران خون بلاک ہوجائے، جس کے بعد مسلز کے ٹشوز آکسیجن سے محروم ہوجاتے ہیں جس سے دل کو نقصان پہنچتا ہے۔

ماہرین طب کے مطابق ایسا ہارٹ اٹیک جو موت کا باعث بنے، اس میں دل کو اتنا نقصان پہنچ جاتا ہے کہ دل کی دھڑکن غیر مستحکم ہو جاتی ہے اور بتدریج ہمیشہ کے لیے تھم جاتی ہے۔

دل کی یہ غیر مستحکم دھڑکن آکسیجن کی کمی کا نتیجہ ہوتی ہے جو کہ دل کے نچلے سے حصے شروع ہوتی ہے اور جب ایسا ہوتا ہے تو دل میں بہت زیادہ ہلچل پیدا ہوتی ہے، تاہم متحرک طرز زندگی کسی ہارٹ اٹیک سے فوری موت کا خطرہ کم کرسکتی ہے۔

حال ہی میں کی جانے والی ایک نئی تحقیق سے پتہ چلا کہ ہارٹ اٹیک سے اچانک موت ان افراد میں زیادہ عام ہوتی ہے جو جسمانی طور پر سست ہوتے ہیں یا ورزش نہیں کرتے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ اموات امراض قلب کے باعث ہوتی ہیں، تاہم متحرک طرز زندگی سے امراض قلب کی روک تھام کی جاسکتی ہے۔

مذکورہ تحقیق میں متحرک طرز زندگی کا موازنہ سست طرز زندگی سے کیا گیا تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ اچانک ہارٹ اٹیک سے جسم پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے یورپ میں ہونے والی 10 تحقیقی رپورٹس کے ڈیٹا کو استعمال کیا گیا۔

محققین نے دریافت کیا کہ جسمانی طور پر زیادہ متحرک رہنا ہارٹ اٹیک سے فوری اور 28 دن کے اندر موت کا خطرہ کم کرتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ جو لوگ معتدل اور سخت جسمانی سرگرمیوں کو عادت بناتے ہیں ان میں ہارٹ اٹیک سے فوری موت کا خطرہ سست طرز زندگی والے افراد کے مقابلے میں بالترتیب 33 اور 45 فیصد تک کم ہوتا ہے۔

محققین نے بتایا کہ ورزش یا جسمانی سرگرمیوں کے ذریعے ہارٹ اٹیک سے موت کے خطرے کو کم کیا جاسکتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں