The news is by your side.

Advertisement

کرپشن الزامات : صوبائی وزیر سبطین خان مزید 8 روزہ جسمانی ریمانڈ پرنیب کے حوالے

لاہور : لاہور کی احتساب عدالت نے چنیوٹ میں معدنیات کےغیرقانونی ٹھیکے دینے کے الزام میں گرفتار صوبائی وزیر سبطین خان کو مزید 8 روزہ جسمانی ریمانڈ پرنیب کے حوالے کردیا۔

تفصیلات کے مطابق وزیر جنگلات سبطین خان کو سخت سکیورٹی میں احتساب عدالت کے جج امیر محمد خان کے پاس پیش کیا گیا، نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ملزم نے چنیوٹ میں اربوں روپے مالیت کے 500 میٹرک ٹن آئرن کا غیر قانونی ٹھیکہ دیا۔ ٹھیکے کی فراہمی کے لئے قوانین کو نظرانداز کیا، ٹھیکہ اس کمپنی کو دیا جسے کان کنی کا تجربہ نہیں تھا۔

سبطین خان کے وکیل نے کہا نیب اس معاملے پر پہلے ہی انکوائری کرکے داخل دفتر کرچکا ہے، جوائنٹ ونچر کی منظوری وزیراعلی نے دی، نیب کی پہلی انکوائری رپورٹ میں واضع ہے قومی خزانے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا، سبطین خان پر کرپشن کے کوئی الزامات نہیں، نیب کو تمام ریکارڈ فراہم کردیا گیا ہے مزید ریمانڈ کی ضرورت نہیں۔

عدالت نے سبطین خان کو مزید آٹھ روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالےکر دیا ،عدالت نےملزم کو شریک ملزموں کے ہمراہ 3 جولائی کو دوبارہ پیش کرنے کی ہدایت کردی۔

یاد رہے 14 جون کو نیب لاہور نے صوبائی وزیرجنگلات سبطین خان کوگرفتارکیاتھا، بطین خان پرغیرقانونی ٹھیکوں کاالزام ہے، بعد ازاں وزیر جنگلات پنجاب سبطین خان نے گرفتاری کے بعد استعفٰی وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کوبھجوادیا تھا۔

مزید پڑھیں : نیب نے پنجاب کے وزیر جنگلات سبطین خان کو گرفتار کر لیا

بعد ازاں وزیرجنگلات پنجاب سبطین خان کواحتساب عدالت میں پیش کیا گیا ، جہاں عدالت نے سبطین خان کو 10روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا تھا ، نیب نے تفتیش کیلئے پندرہ روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی۔

خیال رہے سبطین خان وزیراعظم کے آبائی حلقے میانوالی پی پی 88 میانوالی چار سے پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے اور پھر وزیر جنگلات و جنگلی حیات بنے، سبطین خان دو ہزار سات میں صوبائی وزیر معدنیات رہ چکے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں