لاہور: گونگے بہرے بچوں پر تشدد، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کا نوٹس chlidren tortured
The news is by your side.

Advertisement

لاہور: گونگے بہرے بچوں پر تشدد، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کا نوٹس

لاہور: چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب میں گونگے بہرے بچوں پر تشدد کا نوٹس لیتے ہوئے اسکول بسوں میں 2 غیر ملسح پولیس اہلکاروں کو تعینات کرنے کا حکم جاری کردیا۔

تفصیلات کے مطابق لاہور میں گونگے بہرے طالب علموں پر تشدد کی ایک اور ویڈیو سامنے آئی جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ بس میں ایک شخص گونگے بہرے بچوں پر تشدد کر کے انہیں سیٹوں پر زبردستی بیٹھا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق تشدد کا واقعہ سمڑیال ڈیف اسکول سیالکوٹ کے بچوں کے ساتھ پیش آیا جبکہ اس سے قبل بھی گونگے بہرے بچوں پر تشدد کی ویڈیو منظر عام پر آچکی ہے۔

خصوصی بچوں پر بڑھتے ہوئے تشدد کے بعد عدالت میں درخواست دائر کی گئی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ’گونگے بہرے بچوں پر سرکاری کنڈیکٹر کا تشدد غیر انسانی سکول ہے، واقعے میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جائے اور گونگے بہرے بچوں پر تشدد روکنے کے لیے خصوصی اقدامات کا فوری حکم دیا جائے‘۔

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے بچوں پر تشدد کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب کو ہدایت کی کہ ہر اسکول وین کے ساتھ 2 غیر مسلح پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا جائے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے چیف سیکریٹری، آئی جی اور سیکریٹری اسپیشل ایجوکیشن سے واقعے کی رپورٹ پیش کرنے کا حکم بھی جاری کیا۔

ویڈیو دیکھیں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں