site
stats
پاکستان

ہیتھرو ائیرپورٹ: برطانوی حکام جہاز سے ہیروئن برآمدگی کے شواہد نہ دے سکے

لندن: پی آئی اے کے طیارے سے ہیتھرو ائیرپورٹ پر مبینہ ہیروئن نکلنے کا معاملہ معمہ بن گیا، برطانوی حکام نے 24 گھنٹے گزر جانے کے باوجود پی آئی اے کو معلومات تاحال فراہم نہیں کیں۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز لندن کے ہیتھرو ائیرپورٹ پر برطانوی اتھارٹی نے پی آئی اے کے جہاز کو روک کر کئی گھنٹے تلاشی لی اور عملے کو حراست میں لے کر جہاز سے مبینہ طور پر ہیروئن برآمد کرنے کا دعویٰ کیا۔

برطانوی حکام کی جانب سے 24 گھنٹے گزر جانے کے باوجود پی آئی کو ہیروئن برآمدگی کے حوالے سے کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں، پی آئی اے کی جانب سے برطانوی حکام سے پوچھا گیا تھا کہ طیارے کی کس جگہ سے کتنی مقدار میں ہیروئن برآمد ہوئی،  قومی ائیرلائن کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات پر برطانوی حکام تاحال خاموش ہیں۔

پی آئی اے ذرائع کے مطابق قومی ائیرلائن نے سفارتی سطح پر رابطے شروع کردیے، لندن  اسٹیشن کے منیجر نے بھی بارڈر سیکیورٹی فورس ، نیشنل کرائم ایجنسی کو تحریری طور کر خط لکھ دیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی قومی فضائی کمپنی کو بتایا جائے کہ ہیروئن کہا سے برآمد ہوئی۔


برطانوی حکام نے پی آئی اے کا جہازکلئیر قراردے دیا


ترجمان پی آئی اے کا کہنا ہے کہ برطانوی بارڈر سیکیورٹی فورس نے پی آئی اے کے فضائی میزبانوں کی کلیئرنس کے بعد پاسپورٹ واپس کردیئے ہیں‘ پی آئی اے کا فضائی عملہ پرواز 788کے ذریعے آج کراچی پہنچے گا۔

یاد رہے کہ لندن سے لاہور کی پی آئی اے کی پرواز پی کے 758 کے طیارے میں منشیات کی موجودگی کے شبے میں برطانوی کسٹم حکام نے تلاشی لی گئی تھی، پرواز جیسے ہی لندن پہنچی کسٹم حکام نے طیارے کو گھیرے میں لے لیا تھا۔

ترجمان پی آئی اے کے مطابق شک کی بنیاد پربرطانوی حکام نے عملے کے تیرہ ارکان کو اپنی تحویل میں لیاتھا،جہاز کو بھی شک کی بنیاد پرحصارمیں لیا گیا تھا، تحویل میں لئے گئے عملے کے ارکان میں کپتان حامد گردیزی، فرسٹ آفیسر ایوب اور دس فضائی میزبان شامل تھے۔

بعد ازاں برطانوی کسٹم حکام نے طیارے کو کلئیر قراردے کر جہاز اورکریو کے سامان کی تلاشی لینے کے بعد چھوڑدیاگیا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top