The news is by your side.

Advertisement

پی آئی اے میں کروڑوں کے گھپلے، ایف آئی اے نے دو افسران کو طلب کرلیا

کراچی : ایف آئی اے نے پی آئی اے میں ہونیوا لی مبینہ گھپلوں کی تحقیقات شروع کردیں، جعلی بلوں کے ذریعے کروڑوں روپے کی ادائیگیاں کرنے والے اسٹاف آفیسر اور منیجر کوآرڈی نیشن کو طلب کرلیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق باکمال لوگ لاجواب سروس کی دعویدار قومی ایئرلائن میں مالی بے ضابطگیوں اور گھپلوں کا معاملہ اہم موڑ اختیار کرگیا۔

اے آروائی نیوز پرنشر کی جانے والی خبر کا نوٹس لیتے ہوئے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے ادارے میں جعلی بلوں کے ذریعے کروڑوں روپے کی ادائیگیوں پر تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔

ایف آئی اے کے کارپوریٹ کرائم سرکل اسلام آباد نے مشیر ہوابازی کے اسٹاف آفیسر ،سی ای او کے منیجر کوآرڈی نیشن کو جواب دہی کیلئے طلب کرلیا۔

خبر کے مطابق پی آئی اے میں جعلی بلوں کے ذریعے مبینہ طور پر کروڑوں روپے کی ادائیگیاں کی گئی تھیں، ایف آئی اے کے خط کی کاپی اے آروائی نیوز کو موصول ہوگئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے نے سال 2017 میں پی آئی اے کی جانب سے ادارے کی امیج بلڈنگ کے نام پرجو کروڑوں روپے خرچ کئے گئے تھے ان کی تفصیلات کے ساتھ ساتھ  انتظامیہ سے ایک ہفتہ کے اندر اندرتمام ریکارڈ بھی طلب کرلیا ہے۔

 یاد رہے کہ اے آروائی نیوز نے پی آئی اے میں مختلف مد میں جعلی بلوں کی ادائیگی کے حوالے سے خبر نشر کی تھی، جس کے مطابق مشیر ہوا بازی کے منیجر کو آرڈنیشن نے جعلی بلوں کے ذریعے لاکھوں روپے مالیت کے بلوں کی منظوری دباؤ ڈال کرکرائی تھی۔

ذرائع کے مطابق مختلف مد میں جعلی بل تیار کئے گئے جس سے لاکھوں روپے خزانے سے وصول کئے گئے۔ پی آئی اے کے دو افسران کی جانب سے خلاف ضابطہ اختیارات کا غیر قانونی استعمال کیا گیا۔

  جعلی بلوں میں مہنگی اشیاء کی خریداری مختلف نجی فرم اور ہوٹلز کے بل شامل ہیں، جعلی بلوں کے ذریعے سے ادارے کو نقصان پہنچایا گیا۔

واضح رہے کہ سی ای او کے منیجر کوآرڈنیشن کیخلاف مبینہ جعلسازی کے حوالے سے پہلے ہی تحقیقات جاری ہیں، انہوں نے جعل سازی کے ذریعے پی آئی اے میں بھرتی اور ترقی حاصل کی تھی۔

 ذرائع کے مطابق پی آئی اے کے محکمہ فنانس نے بلوں کو ادا کرنے سے انکار کردیا تھا اور اس کی منظوری چیئرمین سے مشروط کردی تھی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں