The news is by your side.

Advertisement

پی آئی اے ملازمین نے حفظانِ صحت کے قوانین کی دھجیاں اڑادیں

کراچی: قومی ایئر لائن کے فلائٹ کچن میں حفظانِ صحت اور فوڈ کے عالمی قوانین کی دھجیاں اڑا دیں گئیں‘ اسٹاف کی بغیر دستانے پہنے کھانا پیک کرنے کی تصاویر منظرِ عام پر آگئیں‘ ترجمان نے اسے چند افراد کا ذاتی عمل قراردے دیا۔

تفصیلات کے مطابق پی آئی اے کے فلائٹ کچن سے موصول ہونے والی تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح ایئر لائن کا اسٹاف ننگے ہاتھوں سے کھانے کی پیکنگ میں مصروف ہے‘ یاد رہے کہ یہ عمل حفظانِ صحت کے قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

ذرائع کے مطابق پی آئی اے کی ملکی اور بین الاقوامی پروازوں میں اسٹاف مسافروں کو فراہم کرنے والا کھانا بغیر دستانوں کے پیک کردیتا ہے جس سے مہلک جراثیم کی منتقلی کے خدشات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔

تصاویر کے منظر عام پر آنے سے روزانہ ہزاروں مسافروں کو فراہم کیے جانے والے کھانے کے معیار پر سوالیہ نشان کھڑے کردیے ہیں۔ یاد رہے کہ پی آئی اے کی پروازوں میں مسافروں کو باسی کھانا فراہم کرنے کی شکایات بھی عام ہیں۔

دوسری جانب پی آئی اے کے ترجمان نے فلائٹ کچن کے حوالے سے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی آئی اے فلائٹ کچن میں حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق مسافروں کے لئے معیاری کھانے تیار کئے جاتے ہیں۔ پی آئی اے کا فلائٹ کچن بین الاقوامی معیار کے مطابق اور سند یافتہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ فلائٹ کچن کے چند ملازمین کی دستانوں کے بغیر کھانا تیار کرتے ہوئے تصاویر قومی ائر لائن کو بدنام کرنے کی مذموم اور سوچی سمجھی سازش ہے جن کی تحقیقات کا آغاز دو روز پہلے ہی اس بات کا تعین کرنے کے لیے کر دیا گیا ہے کہ یہ تصاویر کس وقت بنائی گئیں۔یہ چند لوگوں کا ذاتی فعل ہے اور ایئر لائن کی فوڈ پالیسی سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ان تصاویر میں نظر آنے والے ملازمین اس بات سے آگاہ نظر آ رہے ہیں کہ ان کی تصاویربنائی جا رہی ہیں جس سے مذکورہ ملازمین کی بد نیتی ظاہر ہو رہی ہے۔

پی آئی اے اس واقعے میں ملوث ملازمین کے خلاف سخت ایکشن لے گی۔یہ بات نہایت افسوسناک ہے کہ چند افراد اپنے ہی ادارے اور روزگار کو بدنام کرنے کی سازش میں ملوث ہیں اور پی آئی اے کا وقار تباہ کر رہے ہیں۔

پی آئی اے اپنے معزز مسافروں کو اس بات کا یقین دلاتی ہے کہ دورانِ پرواز کھانوں کی فراہمی بین الاقوامی معیار اور حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق کی جاتی ہے اور پی آئی اے انتظامیہ کی یہ اولین ترجیح ہے ۔


Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں