The news is by your side.

Advertisement

پی آئی اے میں میٹرک اور مڈل پاس پائلٹس ہیں، سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع

اسلام آباد : جسٹس اعجازالاحسن نے کہا ہے کہ میٹرک سے کم تو بس نہیں چلا سکتا، یہاں جہاز اڑائے جا رہے ہیں، پائلٹس کی ڈگریوں کی تصدیق کرکے رپورٹ جلد فراہم کی جائے۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی فل بنچ نے جعلی ڈگری کیس کی سماعت کی۔ سول ایوی ایشن نے پائلٹس کی جعلی ڈگریوں سے متعلق دھماکا خیز رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرادی۔

پائلٹس اور کیبن کریو کی چار ہزار تین سو اکیس ڈگریوں کی تصدیق کا عمل مکمل ہو گیا جبکہ چار سو 38 ڈگریوں کی تصدیق کا عمل جاری ہے، پائلٹس کی جعلی ڈگریوں کے مقدمے میں چونکا دینے والے انکشافات پر مبنی رپورٹ سامنے آگئی۔

سپریم کورٹ میں پیش کی گئی سول ایوی ایشن کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ سات پائلٹس کی ڈگریاں جعلی پائی گئیں۔ پانچ میٹرک انڈر میٹرک ہیں، پی آئی اے کے وکیل نے بتایا کہ ڈگریوں کا ریکارڈ فراہم نہ کرنے والے پچاس افسروں کو معطل کر دیا ہے۔

رپورٹ پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ لوگوں کی زندگیوں کو داؤ پرلگا دیا گیا، ایسے افراد سے کسی قسم کی رعایت نہ کی جائے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ میٹرک سے کم تو بس نہیں چلا سکتا، یہاں جہاز اڑائے جا رہے ہیں۔ عدالت نے ڈگریوں کی تصدیق کا عمل فوری مکمل کرکے رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا۔

اس کے علاوہ عدالت نے پی آئی اے کوکنٹریکٹ پائلٹس بھرتی کرنے کی اجازت دیتے ہوئے پائلٹس کے لائسنسوں کی مکمل تفصیل بھی طلب کرلی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں