The news is by your side.

Advertisement

کراچی: حادثے کا شکار طیارے کا انجن اور پر تباہ حال گھروں سے اتار لیے گئے

کراچی: پی آئی اے کے حادثے کا شکار طیارے کا انجن اور پر ماڈل کالونی کے گھروں سے اتار لیے گئے، پی آئی اے کی مدد کے لیے فوج، میکا نائزڈ انجینیئرز اور پاک فضائیہ کے دستے بھی موجود رہے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن (پی آئی اے) کے حادثے کا شکار طیارے کے وزنی ترین حصے اٹھا لیے گئے، جہاز کے ملبے کے یہ ٹکڑے جناح گارڈن کے تباہ شدہ گھروں سے اٹھائے گئے ہیں۔

مذکورہ گھروں کے درمیان سے جہاز کا پر اور انجن تکنیکی ماہرین کی موجودگی میں وزنی کرین کی مدد سے نکالا گیا، حادثے کے بعد کئی ٹن وزنی انجن سہ منزلہ عمارت کی چھت پر پڑا تھا۔

جہاز کا 17 میٹر لمبا اور 5 میٹر چوڑا پر گھر کے اندر دھنسا ہوا تھا، پر کو نکالنے سے گھر کے منہدم ہونے کا خدشہ تھا لہٰذا اسے ٹکڑوں کی صورت میں نکالا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ انجن اور پر اٹھانے کے لیے وزنی اور اونچی کرین کی ضرورت پڑی مگر راستہ تنگ، گنجان آباد ہونے اور بجلی کی تاروں کی وجہ سے دشواری کا سامنا کرنا پڑا جس کے بعد عملے نے کے پی ٹی اور نیول ڈاکیارڈ سے وزنی کرنیں اور دیگر مشینری منگوائی۔

کام کے دوران پی آئی اے کی مدد کے لیے فوج، میکا نائزڈ انجینیئرز اور پاک فضائیہ کے دستے بھی موجود رہے، سندھ رینجرز 42 ونگ نے پورے علاقے کو سیل کر کے ملبے کی منتقلی کے عمل کو محفوظ بنایا۔

ذرائع کے مطابق تمام پرزوں کو کراچی ایئر پورٹ پر ایک محفوظ جگہ منتقل کردیا گیا ہے جہاں تحقیقاتی ٹیمیں ان کا جائزہ لیں گی، علاقہ مکینوں نے محفوظ طریقے سے ملبہ ہٹانے کے لیے پی آئی اے، کے پی ٹی اور افواج پاکستان کی کاوشوں کو سراہا۔

ترجمان پی آئی اے کا کہنا ہے کہ پی آئی اے نے کرینوں اور وزنی مشینری کو متاثرہ مکانوں کی چھتوں کو نکالنے کے لیے بھی استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے، ترجمان کا کہنا ہے کہ ٹیمیں تکنیکی طور پر تجربہ کار ہیں اور اس کام کو عام مزدوروں کے مقابلے میں احسن اور محفوظ طریقے سے انجام دے سکتی ہیں۔

خیال رہے کہ 22 مئی کی دوپہر کو پی آئی اے کا لاہور سے کراچی آنے والا طیارہ المناک حادثے کا شکار ہوگیا تھا جب لینڈنگ سے چند لمحے قبل طیارہ رہائشی علاقے میں گھروں پر گر گیا۔

عید سے 2 روز قبل پیش آنے والے المناک حادثے میں 97 مسافر جاں بحق ہوگئے تھے جبکہ 2 مسافر معجزانہ طور پر زندہ بچ گئے۔ حادثے کی تحقیقات جاری ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں