پی آئی اے طیارہ تباہ، 36 لاشیں نکال لی گئیں، تمام مسافر جاں‌ بحق ہونے کا خدشہ - ARYNews.tv
The news is by your side.

Advertisement

طیارہ حادثہ: جنید جمشید سمیت سینتالیس افراد شہید

اسلام آباد: پی آئی اے طیارہ حادثے میں شہید ہونے والے افراد کی شناخت کا عمل جاری ہے ،حادثے میں جنید جمشید‘ ان کی اہلیہ سمیت تمام 47 افراد شہید ہوگئے ہیں جن کی میتین ایوب کمپلکس ایبٹ آباد میں موجود ہیں۔

تفصیلات کے مطابق چترال سے اڑان بھرنے والے پی آئی اے کے طیارے کا ایبٹ آباد سے حویلیاں کے درمیان رابطہ منقطع ہوگیا تھا۔ جہازحویلیاں کے نزدیکی علاقے میں گرکرتباہ ہوگیا تھا‘ جس میں 47افراد سوار تھے جن میں معروف مذہبی اسکالر جنید جمشید بھی اہلیہ سمیت شامل تھے۔

ایئرہوسٹس سمیت 6 افراد کی شناخت

 

جہاز کے تمام مسافرجاں بحق

جائے حادثہ پر موجود نمائندہ اے آر وائی نیوز محمد اشفاق نے بتایا کہ جہاز میں سوار تمام افراد جاں بحق ہوچکے ہیں، بدقسمت جہاز کا کوئی مسافر نہیں بچا، جہازایبٹ آباد کے علاقے میں گرا،امداد کے لیے آرمی اور امدادی اداروں کی ٹیمیں موجود تھیں تاہم انہیں سخت دشواری کا سامنا کرنا پڑا، مقامی افراد مٹی کی مدد سے آگ بجھانے کی کوشش کررہے ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج کی جانب سے امدادی آپریشن جاری ہے، پاک فوج کے 500 جوان امدادی کارروائی میں مصروف ہیں  اب تک 40 لاشوں کو نکال کر ایوب میڈیکل کمپلیکس ایبٹ آباد منتقل کردیا گیا ہے۔

crash-post-1

تحقیقاتی کمیٹی کا قیام 

واقعہ پرسول ایوی ایشن نے ڈائریکٹر فلائٹس اسٹینڈرڈ کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی۔ ذرائع نے بتایا کہ پائلٹ نے اپنی آخری پیغام میں کنٹرول ٹاور سے رابطے میں ’’مے ڈے آئی ایم ان سیریس ٹربل‘‘ کہا۔

اے آر وائی نیوز کے رپورٹر صلاح الدین کے مطابق تحقیقات کے لیے سول ایوی ایشن کی چار رکنی ٹیم تشکیل دی گئی ہے جو تحقیقات کے لیے جائے حادثہ روانہ ہوگئی، یہ ٹیم پورے معاملے کی تحقیقات کرے گی، ٹیم نے ابتدائی طور پر کنٹرول ٹاور سے ہونے والی پائلٹ کی آخری گفتگو بھی سنی جس میں بتایا گیا کہ انجن میں خرابی ہوگئی‘ بعدازاں طیارہ تباہ ہوگیا۔

وزیرداخلہ کی ہدایت پرایف آئی اے کے ماہرین کی پانچ رکنی ٹیم جائے وقوعہ کے لیے روانہ ہو گئی ہے جو ممکنہ دہشت گردی یا فنی خرابی  کے اسباب کی جانچ پڑتال کرے گی‘ ٹیم میں ایوی ایشن کے ماہرین  بھی شامل ہیں۔

ذرائع ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ٹیم مقامی پولیس کی مدد سے جائے وقوع کا جائزہ لیکراپنی رپورٹ مرتب کرے گی اور دہشت گردی کے ممکنہ خدشات کے پیش نظر شواہد اکٹھے کرے گی، وزیر داخلہ چودھری نثار نے ایف آئی اے کی ٹیم کو تین دن میں ابتدائی رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت جاری کی ہیں۔

 طیارے میں سوار مسافروں کی فہرست 

طیارے میں معروف مبلغ جنید جمشید، اہلیہ نیہا جمشید سمیت 42 مسافر اور عملے کے 6 ارکان سوار تھے،مسافروں میں 31 مرد، 9 خواتین اور دو بچے شامل تھے جب کہ عملے میں 3 پائلٹس 2 ایئرہوسٹس اور ایک گرائونڈ انجینئر شامل ہیں۔

مسافروں میں اے ایس ایف کے دو اہلکار اے ایس آئی عمران اور سمیع ، ڈپٹی کمشنر چترال اسامہ وڑائچ ،سول ایوی ایشن اتھارٹی کے لیگل کنسلٹنٹ سمیت چین کوریا اور آسٹریلیا کے ایک ایک شہری بھی سوار تھے۔

passenger

مسافروں کے نام
جنید جمشید
نیہا جمشید (اہلیہ جنید جمشید)
عابد قیصر
احترام اللہ
مسز عائشہ
اکبر علی
اختر محمود
عامر شوکت
امینہ احمد
عتیق محمد
فرح ناز
فرحت عزیز
گوہر علی
گل ہورن
حاجی نواز
حسان علی
محمود عاطف
محمد خان
نثار الدین
اسامہ احمد
رانی مہرین
سلمان زین
ثمینہ گل
شمشاد بیگ
طیبہ عزیز
تیمور عرشی
طیارے میں تین غیرملکی بھی تھے
ہین چیانگ (غیرملکی)
ہیرالڈ کیسل (غیرملکی)
ہیروک ایکی (غیرملکی)
عملے کے ارکان
ایس جنجوعہ
اعلے اکرم
احمد جنجوعہ
صدف فاروق
عاصمہ عادل

 طیارہ حادثے کا شکار خالد مقصود اور شمشاد بیگم کے لواحقین اسلام آباد روانہ ہوگئے خالد مقصود عبداللہ پور اور شمشاد بیگم محمدیہ کالونی کی رہائشی تھیں۔

طیارے میں جنید جمشید اپنی اہلیہ کے ہمراہ سوار تھے 

اے آر وائی کے اینکر پرسن وسیم بادامی نے اور منیجر ارسلان نے تصدیق کی  ہے کہ جنید جمشید جہازپرسوار ہونے کے لیے اہلیہ سمیت ایئرپورٹ پہنچے تھے۔

جنید جمشید کے بھائی نے اے آر وائی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ چترال سے اسلام آباد آنے والے طیارے میں اہل خانہ سمیت سوار تھے ان کا موبائل بند ہے اور ان سے رابطہ نہیں ہو پارہا۔

جنید جمشید نے اپنے آخری ٹوئٹ میں کہا کہ اللہ کے راستے میں اپنے دوستوں کے ساتھ چترال میں ہوں، چترال زمین پر جنت ہے۔

یاد رہے کہ  جنید جمشید اپنی اہلیہ کے ہمراہ تبلیغی دورے پر چترال گئے ہوئے تھے اور آج انہیں چترال سے اسلام آباد اسی بد نصیب طیارے کے ذریعے اسلام آباد پہنچنا تھا۔

جنید جمشید کو آئندہ جمعہ پارلیمنٹ کی مسجد میں خطبہ دینا تھا 

پارلیمنٹ کی مسجد کے خطیب احمد الرحمان نے اے آر وائی کو بتایا کہ جنید جمشید کو آئندہ جمعے کو پارلیمنٹ کا دورہ کرنا تھا اور پارلیمنٹ کی مسجد میں جنید جمشید کا جمہ کے اجتماع سے خطاب بھی طے تھا۔
طیارے کے گرکر تباہ ہونے کی تصدیق 

ذرائع کا کہنا ہے کہ طیارے سے آخری پیغام یہ موصول ہوا تھا کہ انجن میں خرابی پیدا ہوگئی ہے ‘ اس کے بعد کسی قسم کا کوئی رابطہ نہیں ہوسکا ۔ کہا جارہا ہے کہ جہاز کے بائیں انجن میں خرابی پیدا ہوئی۔ذرائع کے مطابق یہ اے ٹی آر طیارہ ہے اور پی آئی اے کی پرواز نمبر پی کے 661 ہے۔

ترجمان پی آئی اے دانیال گیلانی نے طیارے کے گرنے کی تصدیق کی ہے‘ ان کے مطابق جہاز کے کپتان کیپٹن صالح تھے اورطیارے کا رابطہ 4:40 منٹ پر منقطع ہوا ہے۔

post-1

 جنید جمشید کے گھر پر لوگوں کا اژدہام 

اے آروائی نیوز کراچی کے نمائندے سلمان لودھی نے بتایا کہ واقعے کے بعد کراچی میں واقعہ جنید جمشید کی رہائش گاہ پر بڑی تعداد میں لوگوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے ان میں عزیز رشتہ دار سمیت دوست احباب اور تبلیغی جماعت کے افراد شامل ہیں جب کہ اہل علاقہ کی بھی ایک بڑی تعداد یہاں پہنچ چکی ہے ، اداکار فیصل قریشی، اعجاز اسلم اور عادل صدیقی بھی جنید جمشید کی رہائش گاہ پہنچ گئے۔

امدادی کارروائیوں کا آغاز 

تاریکی اور دشوار گزار راستوں کے باعث امدادی ٹیموں کو پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہے مقامی افراد اپنی مدد آپ کے تحت طیارے کے ملبے پر مٹی ڈال کر آگ بجھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

پاک فوج کی امدادی ٹیمیوں نے حادثے کی جگہ پہنچ کر امدادی کارروائیوں کا آغاز کردیا اور جہاز کے ملبے سے 36 افراد کی لاشوں کو نکال لیا جب کہ ملبے سے معروف دینی شخصیت جنید جمشید کا پرس بھی ملا ہے جس میں ان کی تصاویر بھی موجود ہیں۔

ڈی ایس پی حویلیاں محمد خورشید نے اے آروائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ پہاڑوں میں ایک جہاز گرکر تباہ ہوا ہے، ان کا کہنا تھا کہ امدادی ٹیمیں روانہ ہوچکی ہیں اور کچھ دیر میں جائے وقوعہ تک پہنچ جائیں،عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ فضا میں طیارہ قلابازیاں کھارہا تھا، طیارہ زمین پر گرتے ہی بکھر گیا اور ہر طرف آگ پھیل گئی۔

این ڈی ایم اے نے طیارہ حادثے کے بعد ہنگامی اقدامات شروع کردیے شناخت میں آسانی کے پیش نظر میتیں حویلیاں ڈسٹرکٹ اسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جس کے بعد 6 میتیں منتقل کردی گئی ہیں۔

دوسری جانب وزارت داخلہ نے جائے وقوع سے میتوں کے انخلا کے لیے اپنا ہیلی کاپٹر فراہم کردیا ہے اور مقامی انتظامیہ، پولیس اور میتوں کی شناخت کے لیے نادرا سے رابطہ کرلیا گیا ہے اس سلسلے میں چیرمین نادرا کو فوری طور پرموبائل بایومیٹرک ٹیم جائے وقوعہ پر بھیجنے کی ہدایت کی گئی ہیں۔

post-4

crash-post-1

post-3

یاد رہے کہ آج سے 27 سال قبل 25 اگست 1989 کو گلگت سے اسلام آباد آنے والا طیارہ فوکر ایف 27 کسی انجانے حادثے کا شکار ہوگیا تھا۔ طیارے کی تلاش کے لیے کئی فضائی اور زمینی سرچ آپریشن کیے گئے تھے تاہم جہاز کا کبھی کوئی سراغ نہیں ملا‘ امکان کیا جاتا ہے کہ جہاز کوہ ِ ہمالیہ میں گر کر لاپتا ہوا تھا۔

لاشوں کی شناخت کے لیے نادرا کی ٹیم ایوب میڈیکل کمپلیکس پہنچ گئی ، ٹیم نے لاشوں کی شناخت کے لیے عوام سے بھی مدد مانگ لی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں