The news is by your side.

Advertisement

پی آئی اے نے طیاروں کے نئے ڈیزائن پر ساڑھے 3 کروڑ روپے خرچ کرڈالے

کراچی : پی آئی اےکی جانب سےنیا’’لوگو‘‘متعارف کرادیاگیا، جس میں پی آئی اے کے طیاروں کی دم پر سے قومی پرچم کی جگہ مارخور پرنٹ کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق  باکمال لوگوں کے لاجواب اقدام اربوں روپے خسارے سے دو چار پی آئی اے کی شاہ خرچیاں عروج پر  ہے،  پی آئی اےکی جانب سےنیا’’لوگو‘‘متعارف کرادیا گیا۔

ذرائع  کا کہنا ہے کہ پی آئی اے کے طیاروں کی دم پر سے قومی پرچم کی مارخورکے ڈیزائن پر ادارے نے ساڑھے تین کروڑ روپے خرچ کرڈالے، ڈیزائن ایک اعلیٰ شخصیت کی منظور نظر کمپنی سے تیار کرائے گئے۔

پی آئی اے کے نئے ڈیزائن والے طیارے کا باقاعدہ افتتاح آج اسلام آباد میں مشیر ہوا بازی سردار مہتاب عباسی نے کیا، پی آئی اے کے بتیس جہازوں کی دم پر مارخور پینٹ ہوگا اور طیارے کے اگلے حصہ پر قومی پرچم پینٹ کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق پی آئی اے کے طیاروں پرنئے پینٹ اور لوگو کی تبدیلی پرکروڑوں روپے کے اخراجات آئیں گے، جبکہ پی آئی اے پہلے ہی قرضوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے ۔

پی آئی اے نے سول ایوین ایشن اتھارٹی،پی ایس او اور دیگر اداروں کو اربوں روپے کے واجبات ادا کرنے ہیں اور فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے پی آئی اے کے طیاروں کے پرزہ جات بھی نہیں خریدے گئے ہیں۔

 

ذرائع کا کہنا تھا کہ ڈیزائن تبدیل کرنے کی منظوری ایوی ایشن ڈویژن کی اہم شخصیت نے دی۔

ایوی ایشن ڈویژن کے ذرائع کے مطابق ڈیزائن میں تبدیلی کی منظوری پی آئی اے بورڈ آف ڈائریکٹرز سے نہیں لی گئی اور نئے ڈیزائن سے بورڈآف ڈائریکٹرز تاحال لاعلم ہے۔

پی آئی اے انتظامیہ نے ٹیل کے لئے 2 ڈیزائن تیار کرلیے ہیں، دونوں ڈیزائنز میں قومی جانورمارخور کو نمایاں کیا گیا ہے۔


مزید پڑھیں  : پی آئی اے کو 6 ماہ میں 21 ارب روپے سے زائد کا نقصا ن


یاد رہے ناقص حکمت عملی کے باعث قومی ایئر لائن کے خسارے میں مزید اضافہ ہوگیا ہے اور پی آئی اے کو 6 ماہ میں 21 ارب 50 کروڑ روپے کا آپریٹنگ نقصان برداشت کرنا پڑا۔

ترجمان پی آئی اے کا کہنا ہے کہ پی آئی اے کو طیاروں کی کمی اور ان کے گراؤنڈ ہونے سے بھی نقصان ہوا۔

اس سے قبل گزشتہ 2 ماہ میں پی آئی اے کو 6 ارب 50 کروڑ روپے نقصان کا سامنا رہا تھا جبکہ سنہ 2017 کے 3 ماہ کے دوران پی آئی اے کو 15 ارب کا آپریٹنگ نقصان ہوا تھا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں