اسلام آباد : پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی ملکی و غیر ملکی فروخت ہونے والی پراپرٹیز کی تفصیلات منظرِ عام پر آگئیں۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کے عمل میں ایک بڑی اور اہم پیشرفت سامنے آئی۔
سرکاری دستاویزات میں بتایا گیا کہ قومی ایئرلائن کی نجکاری ٹرانزیکشن کے تحت مجموعی طور پر ملکی اور غیر ملکی 12 اہم پراپرٹیز بھی نجی کنسورشیئم کے حوالے کی جائیں گی، جن کی مجموعی مالیت اربوں روپے بنتی ہے۔
دستاویز میں کہا گیا کہ ان 12 پراپرٹیز میں پاکستان کے اہم شہروں سمیت امریکہ، ایمسٹرڈیم اور انڈیا میں موجود قیمتی کمرشل و ریزیڈنشل اثاثے شامل ہیں۔
حالیہ دستاویزات کے مطابق بیرونِ ملک جائیدادوں کی مالیت ڈالرز اور یورو میں لگائی گئی ہے، نیویارک/امریکہ میں موجود ریزیڈنشل پراپرٹی کی قیمت 19 لاکھ 35 ہزار امریکی ڈالر مقرر کی گئی ہے۔
ایمسٹرڈیم میں پی آئی اے سیلز آفس کی ویلیوایشن 21 لاکھ 5 ہزار یورو جبکہ وہاں موجود ریزیڈنس مینیجر کی پراپرٹی کی مالیت 7 لاکھ 67 ہزار یورو لگائی گئی ہے۔
نئی دہلی میں پی آئی اے کے سیلز آفس کی ویلیوایشن 12 کروڑ 19 لاکھ بھارتی روپے سے زائد، جبکہ ریزیڈنشل پراپرٹی کی مالیت 11 کروڑ 25 لاکھ بھارتی روپے لگی ہے۔
پاکستان کے اندر موجود پی آئی اے کے اثاثوں کی ویلیوایشن اربوں روپے میں کی گئی ہے، جس میں پشاور آفس سب سے مہنگا ترین اثاثہ ہے، سیلز آفس کی سب سے زیادہ یعنی 5 ارب 56 کروڑ 14 لاکھ 4 ہزار روپے ویلیوایشن لگائی گئی ہے۔
اسلام آباد دارالحکومت میں واقع اس اہم دفتر کی مالیت 2 ارب 67 کروڑ 73 لاکھ روپے مقرر ہوئی ہے ، راولپنڈی موجود بلنگ آفس کی ویلیوایشن 2 ارب 54 کروڑ 62 لاکھ روپے لگی ہے۔
بلوچستان کے دارالحکومت میں سیلز آفس کی بلڈنگ کی مالیت 91 کروڑ 57 لاکھ 92 ہزار روپے لگائی گئی ہے۔
دستاویزات کے مطابق ان 12 پراپرٹیز کی فروخت نجکاری کے اس بڑے پیکیج کا حصہ ہے جس کے تحت نجی کنسورشیئم قومی ایئرلائن کے فضائی آپریشنز کے ساتھ ساتھ ان اثاثوں کا کنٹرول بھی سنبھالے گا۔
واضح رہے کہ پی آئی اے کے دیگر بڑے ہوٹلز (جیسے نیویارک کا روزویلٹ ہوٹل اور پیرس کا سکرائب ہوٹل) اس ہولڈنگ کمپنی اور نجکاری کے اس مخصوص حصے سے الگ رکھے گئے ہیں۔
Shoaib Nizami reports Finance, Fedeal Board of Revenue, Planning , Public Accounts, Banking, Capital Market, SECP, IMF, World Bank, Asian Development Bank, FATF updates for ARY News


