The news is by your side.

Advertisement

کبوتر کی کھوپڑی میں سوئی آر پار پھنس گئی، جان بچانے کے لیے پیچیدہ آپریشن

لمبارڈی: اٹلی کے علاقے لمبارڈی کے شہر مونزا میں ایک کبوتر کی کھوپڑی میں سرنج کی سوئی آر پار پھنس گئی تھی، جس کا آپریشن کر کے کبوتر کو بچا لیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق ڈارڈو نامی نر کبوتر کے بارے میں یہ اندازا لگایا گیا ہے کہ وہ کسی ظالم شخص کے ظلم کا تختہ مشق بنا تھا، جس نے اس کے سر میں سرنج کی 3 انچ لمبی سوئی چھبو دی تھی جو آر پار ہو گئی تاہم کبوتر کی خوش قسمتی تھی کہ ایک نازک آپریشن کے بعد سوئی نکال کر اسے بچا لیا گیا۔

یہ کبوتر لمبارڈی کے شہر مونزا کے ویلا ریئل پارک میں دیکھا گیا تھا، لیکن دس دنوں تک پکڑے جانے سے بچا رہا، آخر کار بڑی کوششوں کے بعد مراکش سے تعلق رکھنے والے کتوں کے ایک ٹرینر سعید بائد نے اسے دو اور ساتھیوں کے ساتھ مل کر پکڑ لیا۔

کبوتر کو آکسیجن ماسک لگایا جا رہا ہے، سر میں آر پار گھسی ہوئی سوئی بھی واضح نظر آ رہی ہے

سعید بائد نے مقامی اخبار کو بتایا کہ وہ روزانہ صبح 7 بجے پارک کھلنے پر وہاں پہنچ جاتے ہیں، انھوں نے کئی دنوں تک کبوتروں کے دو گروپس کی حرکات و سکنات نوٹ کیں، جس کبوتر کی کھوپڑی میں سوئی پھنسی تھی وہ دن میں تین مرتبہ خوراک کے لیے درخت سے نیچے اترتا تھا، اور دوسرے گروپ سے دور رہتا تھا، ہو سکتا ہے اس خوف کی وجہ سے کہ کوئی اس کے سر کو چھو نہ لے۔

پیچیدہ آپریشن کے بعد کبوتر کی کھوپڑی سے نکالی گئی سرنج کی سوئی

سعید کا کہنا تھا کہ انھوں نے بہت احتیاط کے ساتھ کئی دن تک کبوتر کو پکڑنے کی کوشش کی، آس پاس دوسرے لوگ بھی یہ مشن سمجھ گئے تھے، آخر کار پکڑے جانے کے بعد کبوتر کو جانوروں کے کلینک سرجری کے لیے لے جایا گیا۔

اٹلی کے شہر میں رہائش پذیر، مراکش سے تعلق رکھنے والے کتوں کے ٹرینر سعید بائد

انھوں نے بتایا کہ خوش قسمتی سے سوئی نے کبوتر کی آنکھ کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا تھا، یقیناً یہ سوئی کسی ظالم شخص نے اس کے سر میں قصداً چھبوئی ہوگی۔ کبوتر کا آپریشن کر کے سوئی نکالنے والے ویٹرنری ڈاکٹر ولیریا پیلیگرینو کا کہنا تھا کہ جب کبوتر ان کے پاس لایا گیا تو سوئی اس کی کھوپڑی کی سامنے والی ہڈی میں گھس کر پچھلی ہڈی سے باہر نکلی ہوئی تھی تاہم دماغ محفوظ رہا تھا۔

ڈاکٹر نے کبوتر کے سر کے ایکسرے کے بعد پیچیدہ سرجری کی اور کامیابی کے ساتھ سوئی کو نکال لیا۔ ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ دکھ کی بات یہ ہے کہ یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، ایسے واقعات پہلے بھی ہوتے رہے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں