The news is by your side.

Advertisement

مناسک حج کا آغاز، منیٰ میں دنیا کی سب سے بڑی خیمہ بستی آباد

مکہ: سعودی عرب میں موجود عازمین نے مناسک حج کا آغاز کردیا جس کے تحت منیٰ میں دنیا کی سب سے بڑی خیمہ بستی آباد ہوگئی۔

تفصیلات کے مطابق اسلام کے چوتھے بنیادی رکن حج کے مناسک کا آغاز 8 ذوالحجہ جمعے سے شروع ہوگیا، اس ضمن میں شرعی طریقہ کار کے مطابق عازمین مکہ سے پانچ کلومیٹر دو منی پہنچ گئے جہاں دنیا کی سب سے بڑی خیمہ بستی لگائی گئی ہے۔

لبیک الھم لبیک کی صدائیں بلند کرتے تقریباً 20 لاکھ کے قریب عازمین میں سے 18 لاکھ کا تعلق بیرونِ ممالک سے ہے، سعودی عرب میں چاند کے حساب سے ذوالحجہ کی 8 تاریخ جمعے کو شروع ہوئی۔

آٹھ ذوالحج کو یوم الترویہ بھی کہا جاتا ہے کہ جس کا مقصد عازمین منا میں پانی پیتے، اپنی سواریوں اور کپڑوں کو دھوتے ہیں۔

عازمین منا میں رات قیام کے بعد 9 ذوالحج کو عرفات میں جمع ہوں گے اور یہاں وہ حج کا رکن اعظم ادا کریں گے، میدانِ عرفات کو دنیا بھر میں مسلمانوں کا سب سے بڑا اجتماع کہا جاتا ہے۔ عازمین میدانِ عرفات میں ظہر اور عصر کی نمازیں ایک ساتھ ادا کریں گے جس کے بعد وہ نمرہ مسجد میں خطبہ حج سنیں گے۔

مزید پڑھیں:  ممتاز عالم دین شیخ محمد بن حسن آل الشیخ خطبہ حج دیں گے

سورج غروب ہونے کے بعد تمام عازمین مزدلفہ کے لیے روانہ ہوں گے جہاں وہ حکم خداوندی کے مطابق مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک ساتھ ادا کریں گے، بعد ازاں اتوار کی صبح تمام عازمین منا آئیں گے جہاں سے جمرات (شیطان) کو مارنے کے لیے کنکریاں جمع کریں گے۔ بعد ازاں عازمین قربانی کریں گے اور سر منڈوا کر اپنے احرام کھول لیں گے۔

احرام کھولنے کے بعد عازمین بیت اللہ جاکر طواف ال الفادہ کریں گے اور پھر اگلے روز تینوں شیاطین کو کنکریاں ماریں گے اور اس کے ساتھ ہی اُن کے مناسک مکمل ہوجائیں گے۔

سیکیورٹی کے مطابق منی میں عازمین کے قافلوں کو رواں دواں رکھنے اور کسی بھی حادثے سے محفوظ رکھنے کے لیے حجاج کو ہدایت کی گئی کہ وہ چلتے ہوئے آپس میں فاصلہ رکھیں جبکہ جو پیدل چلنے کی صلاحیت نہیں رکھتے وہ ٹرین یا بس سروس استعمال کریں۔

سعودی فورسز کے ترجمان نے بتایا کہ انہوں نے 4 لاکھ 6 ہزار سے زائد غیر قانونی حجاج کو واپس بھی بھیجا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نگرانی کے لیے 6 ہزار کے قریب جدید کیمرے لگائے گئے جن کے ذریعے کڑی نگرانی کی جارہی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں