The news is by your side.

Advertisement

پولیس انفارمیشن نیٹ ورک – خیبر پختونخواہ پولیس کا نیا کارنامہ

پشاور: پولیس نے شہر میں سرگرم شرپسند تنظیموں کے سلیپرز سیلز اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف پولیس انفارمیشن نیٹ ورک کا آغاز کردیا ہے۔

خیبر پختونخواہ پولیس نے حالیہ دہشت گردی کی نئی لہر، ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری اور خطرات کے پیش نظر پولیس انفارمیشن نیٹ ورک کے نام سے نیا یونٹ قائم کر دیا ہے جو کہ شہریوں کے لیے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے بار ے میں مصدقہ اطلاعات فراہم کرکے نقد انعام کی خطیررقم جیتنے کا پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔

نئے یونٹ کے حوالے سے آئی جی خیبرپختونخواہ ناصر خان درانی کا کہنا ہے کہ پولیس انفارمیشن نیٹ ورک کا فیصلہ اعلیٰ سطح کے اجلاس میں کیا گیا ہے، اس یونٹ کا مقصد عوام اور پولیس کے مابین اعتماد سازی ہے۔

IG-post-2

ان کا کہنا تھا کہ یونٹ صوبے کے ہرضلع کے ڈسٹرک آفیسر کی نگرانی کام کرے گا نیٹ ورک کا آغازابتدائی طورپردارالحکومت پشاورسے کردیاگیا ہے جو کہ بعد میں صوبے کے دوسرے علاقوں تک بڑھایاجائے گا۔ پولیس انفارمیشن نیٹ ورک کے قیام سے پشاور کے شہری دہشت گردوں، بھتہ خوروں، ٹارگٹ کلرزاور ان کے سہولت کاروں کے بارے میں پولیس کو اطلاع فراہم کرکے ایک لاکھ روپے تک کی انعامی رقم حاصل کرسکتے ہیں اور اس سلسلے میں ان کی شناحت خفیہ رکھی جائے گی۔

ناصر درانی کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقہ جات سے سینکڑوں راستے پشاور کی جائب آتے ہیں ایسے میں ہرجگہ مکمل سیکورٹی فراہم کرنا اور گاڑی یا پیدل شخص کی جامع تلاشی لینا ناممکن ہے، اس لیے شہر اور مضافات میں میں رہائش پذیر مقامی افراد ہی اپنے ارد گرد موجاشخاص کی بہتر پہچان کرسکتے ہیں ایسے میں پولیس انفارمیشن نیٹ ورک کی مدد سے مقامی لوگ کسی بھی مشکوک سر گرمی یا مشکوک رہائش پزید شخص کی اطلاع متعلقہ افسر کو دے سکے گا،اور اس سلسلے میں پن یونٹ کو دی جانیوالے کی اطلاع مکمل خفیہ رکھا جائے گا۔

IG-post-4

آئی جی ناصر خان درانی کے مطابق پولیس انفارمیشن نیٹ ورک کے طریقہ کار کے لیے سٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر وضع کیا گیا ۔سٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر کے مطابق اعلیٰ رینک کی افسران بشمول ڈی آئی جی ،چیف کیپیٹل سٹی پولیس پشاور ، ایس ایس پی سی ٹی ڈی ور ایس ایس پی پشاور بذات خود پولیس انفارمیشن نیٹ ورک کی نگرانی کریں گے۔

شہری جن کے پاس دہشت گردوں، بھتہ خوروں ،ٹارگٹ کلرز اور ا ن کے سہولت کاروں کے بارے میں مصدقہ انٹیلی جنس معلومات ہو۔وہ موبائل فونزپرایس ایم ایس ٹائپ کرکے مذکورہ متعلقہ افسروں کوبھیجے  گا۔ یہ سینئر افسران اطلاع بیجھنے والوں کے ساتھ بذات خود رابطہ کرکے اطلاعات حاصل کریں گے۔ اس عمل سے اعلیٰ سینئر افسران کی شمولیت سے عوام کا اعتماد اور پولیس انفارمیشن نیٹ ورککی کر یڈبیلٹی بڑھے گی۔

IG-post-1

پولیس حکام کے مطابق دنیا بھرمیں دہشت گردی اور جرائم کے خلاف برسرپیکار قانون نافذ کرنے والی مختلف ایجنسیاں پولیس انفارمیشن نیٹ ورک کا استعمال کررہی ہے دراصل اگر یہ سکیم کامیابی سے ہمکنار ہوتی ہے تو دہشت گردوں کے خلاف ایک مؤثر ہتھیار ثابت ہوسکتی ہے۔محکمہ پولیس اطلاع دہندہ کا نام صیغہ راز میں رکھنے کے علاوہ اس شخص کو دس ہزار سے لے کرایک لاکھ روپے تک انعام بھی دیا جائے گا جن کی اطلاع کی روشنی میں حملہ ناکام یا حملہ آورگرفتارہوسکے۔

چیف کیپٹل پولیس آفیسرمبارک زیب کا کہنا ہے کہ پشاور میں مقیم شہریوں نے دہشت گردی کے خلاف بڑی بہادری کا ثبوت دیا ہے اب پولیس فورس نے شہرمیں مکمل امن کو یقینی بنانے کے لیے پولیس انفارمیشن یونٹ قائم کردیا ہے جسے میں خود براہ راست مانیٹر کروں گا۔

IG-post-3

ان کا کہنا ہے کہ شہر مین روزانہ ہزاروں افغان مہاجرین اور دیگر قبائل سے وابسہ افراد کارو بارسمیت دیگر ضروریات کے سلسلے میں داخل ہوتے ہیں کون کس مقصد کے لیے کہاں رک رہا ہے اس سلسلے میں مقامی شہری ہی پولیس کے ساتھ تعاون کر کے امن کی فضا برقرار رکھنے کے عمل کو یقینی بنا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایس ایس پی آپریشنز کو موسول ہونے والی تمام کالز یا ایس ایم ایس کا مکمل ریکارڈ رکھا جاتا ہے ان کالز کی بنیاد پر ملنے والی اطلاع پر آپریشن سائلنس کیا جاتا ہے جبکہ مصدقہ اطلاع دینے والے کو اطلاع کی بنیاد پر نہ صرف انعامی رقم دی جاتی ہے بلکے ایسے افراد کا نام بھی مکمل صیغہ راز میں رکھا جاتا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں