The news is by your side.

Advertisement

لواری شریف عرس کے خلاف پروپیگنڈے کو علما و مشائخ نے مسترد کردیا

بدین: رویت ہلال کمیٹی کے سابق چیئرمین مفتی منیب الرحمان اور دیگر علما و مشائخ نے لواری شریف درگاہ اور عرس کے حوالے سے ہونے والے پروپیگنڈے کو  مسترد کردیا۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق پیر آف لواری شریف محمد صادق قریشی نقشبندی نے سندھ کے شہر بدین میں نامور علما و مفتیان کرام اور مشائخ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے 9 ذی الحج کو درگاہ لواری شریف میں ہونے والے اجتماع کو فرضی حج قرار دینے کے الزام کو سختی سے مسترد کیا۔

صادق قریشی نقشبندی نے کہا کہ ’ اسلام مخالف عناصر 9 ذی الحج کو لواری شریف میں ہونے والے اجتماع کو فرضی حج قرار دیتے ہیں، جو کہ بالکل غلط اور بے بنیاد پروپیگنڈا ہے‘۔

انہوں نے  کہا کہ ’ ہر سال زائرین درگاہ پر عرس کے لیے جمع ہوتے ہیں مگر مخالفین اس اجتماع پر پروپیگنڈے کرتے ہیں، جو سرا سر غلط اور بے بنیاد ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ لواری شریف درگاہ کے خلاف 1930 سے  پروپیگنڈا کیا جارہا ہے،  تقسیم سے پہلے کانگریس کی حکومت نے درگاہ شریف کے خلاف سیاسی پروپیگنڈے کیے، بعد ازاں اسلام مخالف عناصر نے اس حوالے سے لوگوں کو بدگمان کرنے کی کوشش کی، جس کا سلسلہ جاری ہے‘۔

انہوں نے بتایا کہ لواری شریف میں ہونے والے سالانہ عرض میں ہزاروں کی تعداد میں زائرین شرکت کرتے ہیں، جس سے مخالفین خوفزدہ ہیں، اسی وجہ سے وہ ہر سال بے بنیاد الزامات عائد کرتے ہیں‘۔ صادق قریشی نقشبندی نے بتایا کہ درگاہ کے سجادہ نشین  1930 میں کانگریس حکومت کے ساتھ الیکشن لڑنے کی مخالفت کی اور مسلم لیگ کی حمایت کا اعلان کیا تھا، اُس کے بعد سے ہی درگاہ اور سالانہ عرس کے خلاف مہم جوئی شروع ہوئی‘۔

انہوں نے بتایا کہ ’ نقشبندی سلسلے کا تعلق اس درگاہ سے ہے، اس سلسلے کے بانی حضرت سلطان اولیاء کا شجرہ پہلے خلیفہ حضرت ابوبکر صدیقؓ سے جڑتا ہے‘۔

صادق قریشی نے کہا کہ ’درگاہ پر کوئی غیر شرعی کام نہیں ہوتا اور نہ ہی کبھی اس کی اجازت ہے، یہ واحد درگاہ ہے جہاں نہ تو نذرانہ لیا جاتا ہے اور نہ ہی کوئی میلہ لگایا جاتا ہے ، یہاں کسی بھی قسم کی موسیقی پر بھی پابندی ہے کیوں کہ ہم کسی ایسے عمل کے بارے میں نہیں سوچ سکتے اور نہ اجازت دے سکتے ہیں جو شریعت کے خلاف ہو‘۔

انہوں نے کہا کہ ’تمام مسلمانوں کا ماننا ہے کہ حج صرف مکہ شریف اور اس کے اراکین بیت اللہ شریف میں ہی  ادا کیے جاتے ہیں‘۔

اس پریس کانفرنس میں مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمان، مفتی محمد جان نعیمی، صاحبزادہ ابوالخیر زبیر، سابق رکن قومی اسمبلی پیر عبدالخالق، پیر ایوب جان، پیر عبد الباقی آف ہمایوں شریف، پیر آغاز غلام مجدد، پیر حافظ غلام سوہو، پیر کرم الہٰی سمیت دیگر نے شرکت کی اور درگاہ کے خلاف ہونے والے پروپیگنڈے کو یکسر مسترد کیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں