The news is by your side.

Advertisement

طیارہ حادثہ، اہم شواہد پاکستان پہنچ گئے

اسلام آباد: پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن کے طیارہ حادثے کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کے  سربراہ ایئرکموڈور عثمان غنی اہم شواہد لے کر پاکستان واپس پہنچ گئے۔

اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی ٹیم کے سربراہ فرانسیسی تحقیقاتی ٹیم کی جانب سے ڈی کوڈ کیے گئے بلیک باکس سمیت تمام اہم ریکارڈ لے کر اسلام آباد پہنچے۔

پاکستانی تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ایئرکموڈور عثمان غنی فرانس میں عالمی ماہرین کے ساتھ مل کر طیارہ حادثے کی تحقیقات کررہے تھے، وطن واپسی کے لیے وہ فرانس سے جرمنی گئے اور پھر فرینکفرٹ سے  پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن کی خصوصی پرواز پی کے 8734 سے اسلام آباد  روانہ ہوئے۔

فرانسیسی ماہرین نے  گزشتہ روز حادثے میں تباہ ہونے والے پی آئی اے کے طیارے کے بلیک بکس اور کاکپٹ وائس ریکارڈر  سمیت  دیگر ڈیٹا کو ڈی کوڈ کرنے کے بعد ریکارڈ ایئر ایکسیڈنٹ اینڈ انویسٹی گیشن بورڈ کے سربراہ عثمان غنی کے حوالے کیا تھا۔

مزید پڑھیں: پی آئی اے طیارہ حادثہ، اب تک کی سب سے بڑی پیشرفت

 ایئر کموڈور عثمان غنی اہم شواہد سے متعلق ابتدائی تحقیقاتی  رپورٹ آئندہ چند روز میں ایوی ایشن ڈویژن میں جمع کرائیں گے، ذرائع کے مطابق کاکپٹ وائس ریکارڈر سے تحقیقات کے دوران اہم معلومات حاصل ہوئی ہیں۔

ایئرکموڈور 22 جون کو وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کریں گے  اور طیارہ حادثے کے اہم شواہد پر مبنی رپورٹ وزیر اعظم کو پیش کریں گے۔

یاد رہے کہ 22 مئی جمعۃ الوداع کو لاہور سے کراچی آنے والا پی آئی اے کا طیارہ ایئرپورٹ کے قریب واقع ماڈل کالونی جناح گارڈن کی رہائشی آبادی پر گر کر تباہ ہوگیا تھا جس کے نتیجے میں 97 مسافر ہلاک جبکہ 2 مسافر معجزانہ طور پر بچ گئے تھے۔ حادثے میں مقامی لوگوں کی ہلاکتیں بھی ہوئیں جبکہ پانچ گھر مکمل تباہ ہوگئے۔

یہ بھی پڑھیں: پی آئی اے طیارہ حادثہ کیس، تحقیقاتی کمیٹی تشکیل

بعد ازں وزیر اعظم پاکستان نے واقعے کو نوٹس لیتے ہوئے حادثے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دی، جس کی سربراہی ایئرکموڈور عثمان غنی کے سپرد کی گئی۔

تحقیقاتی ٹیم میں ونگ کمانڈر ملک محمد عمران، گروپ کیپٹن توقیر اور جوائنٹ ڈائریکٹر اے ٹی سی ناصر مجید بھی شامل ہیں، تحقیقاتی ٹیم  کو تفصیلی رپورٹ جمع کرانے کے لیے ایک ماہ کی مہلت دی گئی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں