site
stats
اہم ترین

طیارہ حادثہ:42 لاشوں کی شناخت ‌میں‌ ہفتہ لگے گا، لواحقین رو گئے

اسلام آباد: طیارہ حادثے کی 42 لاشوں کی شناخت ممکن نہیں،ڈی این اے سے شناخت ہونے میں ایک ہفتہ لگےگا،پمز اسپتال پہنچنے والے لواحقین  کی مشکلات بڑھ گئیں، جنید جمشید کے بھائی نے بھی سیمپل جمع کرادیے۔

تفصیلات کے مطابق طیارہ حادثے میں جاں بحق افراد کے لواحقین کا اپنے پیاروں کوکھودینے کے بعد ایک اور امتحان شروع ہوگیا، 42 لاشوں کی شناخت ممکن نہیں ہورہی ان کی ڈی این اے کے ذریعے شناخت کی جائے گی تاہم اس عمل میں ایک ہفتے لگے گا یہ بات جان  کر متعدد مرحومین کے لواحقین رونے لگے۔


Time for patience for heirs who lost their… by arynews

پہلے ایبٹ آباد کے ایوب میڈیکل اسپتال جانے والے بعدازاں اسلام آباد کے پمز اسپتال کے باہر لوگ اس آس میں کھڑے ہیں کہ ان کے پیاروں کی شناخت ہوجائےاور لاش مل جائے لیکن ان کا یہ انتہائی شدید مطالبہ ہفتے بھر سے قبل پورا ہوتا نظر نہیں آرہا جس کے باعث ایک طرف جہاں لواحقین غم کی شدت سے نڈھال ہیں وہیں وہ ایک ہفتے کے لیے سر چھپانا کا ٹھکانا بھی ڈھونڈنے پر مجبور ہوگئے۔


یہ پڑھیں: وزیراعظم کا طیارہ حادثے کی شفاف تحقیقات کا حکم، جنید جمشید کے بیٹے کو فون


طیارہ حادثے میں جاں بحق افراد کی میتیں حویلیاں سے ہیلی کاپٹرز کے ذریعے ایبٹ آباد لائی گئیں جہاں سے انہیں اسلام آباد منتقل کیا گیا۔ پمز اسلام آباد میں ڈی این اے کے لیے لواحقین کےخون کے سیملپز لیے گئے جس میں جنید جمشید کے بھائی ہمایوں جمشید نے بھی خون کے نمونے جمع کرائے۔

اسی سے متعلق: پی آئی اے کا طیارہ حادثے میں شہید افراد کے لواحقین کیلئے معاوضے کا اعلان

پمز اسپتال میں لاشوں کی سیمپلنگ کا عمل مکمل کرکے سرد خانے منتقل کردیا گیا۔

ملک کے دور درازعلاقوں سے آئے ورثا اپنے پیاروں کی میتیں لینے کے لیے اسلام آباد پہنچے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ تمام میتوں کو ضابطے کی کارروائی کے بعد ہی لواحقین کے سپرد کیا جائے گا۔

والد کی میت لینے کے لیے آیا ہوا بیٹا بھی غم سے نڈھال ہوگیا،بھائی کے غم میں چور چھوٹا بھائی اپنے آنسو چھپانہ سکا،وا لدہ کی میت لینے کے لیے آئے بیٹے کا کہنا تھا کہ ماں سے آخری بار طیارہ کریش ہونے سے پہلے بات ہوئی۔


یہ ضرور پڑھیں: ڈی این اے ٹیسٹ کیا ہے؟


جاں بحق افراد میں سے 35 افراد کا تعلق چترال سے تھا جن میں سے 5 کی شناخت ہوگئی۔ ایئر ہوسٹس اسما کی لاش کی شناخت شوہر نے لاکٹ کی مدد سے کی۔

دریں اثنا ایئر ہوسٹس اسما عادل کی نماز جنازہ راولپنڈی میں ادا کردی گئی۔

ایئرفورس کے دو گارڈز کی نماز جنازہ ادا کردی گئی اور ان کی میتیں آبائی گاؤں روانہ کردی گئیں۔

میتوں کی منتقلی کے لیے سی ون تھرٹی طیارے دیں گے، سربراہ پاک فضائیہ

پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل سہیل امان نے پی آئی اے کے حادثے کے قومی سانحہ پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا۔

ان کی خصوصی ہدایات پر سول ایوی ایشن کو آگاہ کریاگیا ہے کہ سانحہ حویلیاں کی میتوں کو ان کے آبائی علاقوں میں پہنچا نے کے لیے پاک فضائیہ کے سی130 طیارے مہیا کیے جائیں گے، پاک فضائیہ کے افسران اور جوان غم کی اس گھڑی میں جاں بحق ہونے والے افراد کے اہل خانہ اور لواحقین کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتے ہیں۔

انہوں نے دینی اسکالر جنید جمشید کے انتقال پر بھی گہرے رنج وغم کا اظہار کیا اور کہا کہ جنید جمشید ایئر فورس افسر کے فرزند ہونے کے ناطے ایئرفورس فیملی کا حصہ تھے ، انہوں نے پاک فضائیہ کے لیے خصوصی محبت اور تعلق کو خراج تحسین پیش کیا اور ان کے بلند درجات کے لیے دعا کی۔

پالپا کا غیر جانب دار تحقیقات کا مطالبہ

پالپا نے اے ٹی آر طیارہ حادثہ سے متعلق غیر جانب دارانہ آزاد تحقیقات کا مطالبہ کردیا اور کہا ہے کہ آزاد اور عالمی سطح کی انکوائری کے لیے ملک میں قابل افراد موجود ہیں،پالپا کے عہدے دار بھی عالمی سطح کے تربیت یافتہ انویسٹی گیٹر ہیں،پالپا حادثے کی تحقیقات میں کردار ادا کرے گی۔

پالپا نے کہا کہ سابقہ تحقیقاتی طریقہ کار مسترد کرتے ہیں، عالمی سطح کی تحقیقات کے علاوہ کچھ قابل قبول نہیں۔

پی آئی اے طیارے کے المناک حادثے پر ائیر لیگ کے مرکزی صدر شمیم اکمل نے  گہرے دکھ اور رنج کا اظہارکیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ حادثے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں ساتھ ہی انہوں نے سوگ کا اعلان بھی کیا۔

جنید جمشید کی نماز جنازہ کا اعلان ڈی این ٹیسٹ کے بعد ہوگا

جنید جمشید کے کوآرڈی نیٹر ارسلان نے بتایا کہ نماز جناہ کا حتمی اعلان نہیں  ہوا، اس کا حتمی اعلان ڈی این اے رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہی کیا جائے ۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر ہونے والے قیاس آرائیوں کو غیر مصدقہ قرار دیا کہ جمعے کو نماز ہوگی اور بتایا کہ نماز جنازہ جب بھی ہوگی یہ طے ہے کہ کورنگی دارالعلوم میں ہوگی، جیسے ہی نماز جنازہ  طے ہوگی اس کا حتمی اعلان کردیا جائے گا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top