site
stats
سائنس اور ٹیکنالوجی

پلاسٹک کھانے والی سنڈی دریافت

لندن: برطانوی ماہرین کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے ایک ایسی سنڈی دریافت کی ہے جو پلاسٹک کو کھا سکتی ہے۔

برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی کے محققین کے مطابق یہ سنڈی شہد کی مکھی کے چھتے سے موم کھاتی ہے اور جب اس پر تجربات کیے گئے تو اس سنڈی نے پلاسٹک کی کیمیائی ساخت کو توڑ کر باآسانی اسے ہضم کرلیا۔

تاہم یہ عمل اتنا بھی آسان نہیں تھا اور گیلیریا مولونیلا نامی اس سنڈی کو پلاسٹک کی تھیلی میں سوراخ کرنے میں 40 منٹ کا وقت لگا۔

ماہرین کے مطابق یہ سنڈی دنیا بھر میں پلاسٹک سے پیدا ہونے والی آلودگی کی روک تھام میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔

تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہ صرف نقطہ آغاز ہے اور وہ پلاسٹک کو تلف کرنے کے لیے بدستور کسی تکنیکی حل کی تلاش میں ہیں۔

واضح رہے کہ پلاسٹک ایک ایسا مادہ ہے جسے ختم ہونے یا زمین کا حصہ بننے کے لیے ہزاروں سال درکار ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ماحول، صفائی اور جنگلی حیات کے لیے ایک بڑا خطرہ تصور کیا جاتا ہے۔

ہر سال دنیا بھر میں 8 کروڑ ٹن پلاسٹک کی تھیلیاں بنائی جاتی ہے۔

مزید پڑھیں: پلاسٹک کی آمیزش کی وجہ سے کاغذ کا کپ گلنا مشکل

پلاسٹک کی یہ تھیلیاں شہروں کی آلودگی میں بھی بے تحاشہ اضافہ کرتی ہیں۔ تلف نہ ہونے کے سبب یہ کچرے کے ڈھیر کی شکل اختیار کرلیتی ہیں اور نکاسی آب کی لائنوں میں پھنس کر انہیں بند کردیتی ہیں جس سے پورے شہر کے گٹر ابل پڑتے ہیں۔

یہ تھیلیاں سمندروں اور دریاؤں میں جا کر وہاں موجود آبی حیات کو بھی سخت نقصان پہنچاتی ہے اور اکثر اوقات ان کی موت کا سبب بھی بن جاتی ہیں۔

پلاسٹک کے ان نقصانات سے آگاہی ہونے کے بعد دنیا کے کئی ممالک اور شہروں میں آہستہ آہستہ اس پر پابندی عائد کی جارہی ہے۔

پلاسٹک کی تباہ کاری کے بارے میں مزید مضامین پڑھیں


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ 

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top