بالوں میں سفیدی بڑھتی عمر کی ایک عمومی علامت سمجھی جاتی ہے، لیکن آج کل کم عمر افراد بھی سر کے سفید بال کی شکایت کرتے نظر آتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق بدلتا طرزِ زندگی، ذہنی دباؤ، غیر متوازن غذا، فضائی آلودگی اور جینیاتی عوامل اس رجحان کی بڑی وجوہات ہیں۔
ایسے میں جب سر پر پہلا سفید بال نظر آئے تو اکثر لوگ بے چینی میں اسے اکھاڑ دیتے ہیں، مگر ساتھ ہی یہ خوف بھی دل میں ہوتا ہے کہ کہیں ایک بال توڑنے سے باقی بال بھی سفید نہ ہوجائیں۔
افسانہ یا حقیقت؟
ڈاکٹر شیوانگی رانا، ماہر امراض جلد، نے ایک ویڈیو میں اس عام غلط فہمی کی وضاحت کی ہے۔ ان کے مطابق یہ بات سراسر افسانہ ہے کہ ایک سفید بال نکالنے سے مزید سفید بال پیدا ہوتے ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ ہر بال کا فولیکل اپنی الگ حیاتیاتی سرگرمی رکھتا ہے، اس لیے ایک بال اکھاڑنے سے ساتھ والے بالوں پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
البتہ بار بار بال توڑنے کی عادت نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے کیونکہ یہ عمل فولیکل کو کمزور کر دیتا ہے، جس کے نتیجے میں اس جگہ بال پتلے ہو سکتے ہیں یا اگنا ہی بند ہوسکتے ہیں۔
بال سفید کیوں ہوتے ہیں؟
بالوں کا رنگ میلانین نامی روغن سے بنتا ہے، جو میلانوسائٹس نامی خلیوں کے ذریعے تیار ہوتا ہے۔ عمر بڑھنے کے ساتھ یہ خلیے اپنی سرگرمی کھو بیٹھتے ہیں، یوں میلانین کی مقدار گھٹتی جاتی ہے اور بال پہلے سرمئی اور پھر سفید دکھائی دینے لگتے ہیں۔ میلانوسائٹس کی دو اقسام ایومیلا نین (بھورا اور سیاہ رنگ) اور فیومیلا نین (سرخ و زرد رنگ) بالوں کی حتمی رنگت طے کرتی ہیں۔
نئی غلط فہمی کیا ہے؟
ڈاکٹر رانا کے مطابق جب لوگ سفید بال توڑتے ہیں تو نیا بال عموماً پہلے کے مقابلے میں زیادہ سخت اور گھنا محسوس ہوتا ہے، جس کی وجہ سے یوں لگتا ہے جیسے مزید سفید بال اُگ آئے ہوں، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔
ایک اہم بات یہ ہے کہ جو بال ایک مرتبہ سفید ہوجائے، وہ دوبارہ سیاہ نہیں ہوسکتا۔ ہاں، احتیاطی تدابیر اپنائی جائیں تو مزید بالوں کے سفید ہونے کے عمل کو کچھ حد تک سست ضرور کیا جاسکتا ہے۔
بچاؤ کیسے ممکن ہے؟
سفید بالوں میں اضافے کی رفتار کم کرنے کے لیے درج ذیل عوامل پر توجہ دینا ضروری ہے جیسے کہ مناسب اور گہری نیند، ذہنی دباؤ میں کمی، متوازن غذا اور وٹامن ڈی، بی کمپلیکس اور کیلشیم پینٹوتھینیٹ جیسے سپلیمنٹس (معالج کے مشورے سے) سگریٹ نوشی اور آلودگی سے بچاؤ، یاد رکھیں جسم میں میلاٹونن کی مناسب مقدار، جو نیند بہتر ہونے سے خود بخود پیدا ہوتی ہے
مختصر یہ کہ ایک سفید بال نکالنے سے بال مزید سفید نہیں ہوتے، لیکن یہ عادت بالوں کے فولیکلز کو کمزور کرکے نقصان ضرور پہنچا سکتی ہے۔ اصل مسئلہ عمر اور طرزِ زندگی سے جڑے عوامل ہیں، ایک بال توڑنے کے عمل سے نہیں۔


