site
stats
پاکستان

گزشتہ چارسال میں جو کام ہوا ہے وہ کسی معجزےسے کم نہیں، وزیراعظم

سیالکوٹ : وزیراعظم شاہدخاقان کا کہنا ہے کہ گزشتہ چارسال میں جو کام ہوا ہے وہ کسی معجزے سے کم نہیں ، دہشت گردی کےخلاف جنگ میں جو کامیابی پاکستان نے حاصل کی وہ کوئی حاصل نہیں کرسکا۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شاہد خاقان نے ایوان صنعت وتجارت سیالکوٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں صلاحیت کی کمی نہیں ہے، سیالکوٹ چیمبرآف کامرس نےمعیاری اشیاسےدنیاکامقابلہ کیا، مشکل حالات کےباوجودنوازشریف نے اپنے وژن پر عمل کیا، گزشتہ چارسال میں جو کام ہوا ہے وہ کسی معجزےسےکم نہیں، حکومت خودکاروبارنہیں کرسکتی سہولت کارکاکرداراداکرسکتی ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم نےقربانیاں دے کر دہشت گردی کے ناسورکوختم کیا،وزیراعظم آج ملک میں گیس اوربجلی سرپلس ہے، بجلی اورگیس کی قیمتوں میں بھی انتہائی کمی کریں گے، کراچی دنیاکے5 خطرناک شہروں میں سے ایک تھامگراب نہیں، نئی حکومت کیلئے مسائل نہیں ہونگے نوازشریف ٹریک پر چلنا ہوگا۔

شاہدخاقان نے کہا کہ ہم نےآئندہ15 سال کےمسائل حل کردیےہیں، ن لیگ کواعزازہے1800کلومیٹرموٹروےتعمیرہورہی ہے، سیالکوٹ میں این ایچ اے 150ارب کے منصوبے لگارہا ہے، نوازشریف کےوژن کوآگےلےکرچل رہےہیں، ن لیگ نےجس تعداد میں منصوبےشروع کیےمثال نہیں ملتی، ن لیگ کےہرمنصوبےکی بریفنگ پر گھنٹے لگ جاتےہیں، ن لیگ نے نہ صرف منصوبے شروع کیے بلکہ مکمل بھی کیے۔


مزید پڑھیں :  انٹرنیشنل ٹرمینل منصوبےکی دنیامیں مثال نہیں ملتی۔


انکا کہنا تھا کہ آج پاکستان دنیا میں دہشت گردی کیخلاف اہم جنگ لڑرہاہے، جوکامیابی پاکستان نےحاصل کی وہ کوئی حاصل نہیں کرسکا، حکومت کےپاس وسائل ہونگے تو صنعتوں کو بھی سپورٹ کرسکتی ہے، ماضی کی حکومت نےکوئی منصوبہ شروع ہی نہیں کیا، منصوبے نہ صرف ترقی کاباعث ہیں بلکہ متحدرکھنےمیں معاون ہیں۔

شاہد خاقان عباسی نے مزید کہا کہ کراچی پورٹ اورگوادرمیں سڑکوں سمیت کئی منصوبےشروع کیے، دھرنےسےملک کو نقصان پہنچا ہے، ہمیں دعوے کی ضرورت نہیں، جو کام کیے وہ نظر آرہے ہیں، سیاسی عدم استحکام کےباوجودمستحکم پالیسیاں دی ہیں، نوازشریف پردنیاکےاعتمادکےباعث سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ افغانستان میں ڈھائی لاکھ فوج آئی لیکن کچھ نہ کرسک، پہلی بارٹیکس محصولات میں اضافہ ہوابڑھانےکی ضرورت ہے، ٹیکس محصولات زیادہ ہونگے تو حکومت صنعتوں سےتعاون کرسکتی ہے، ٹیکس ریفنڈمعاملےکوبہت جلدحل کرلیں گے۔

انھوں نے کہا کہ ہمارے لیے اصل چیلنج تعلیم کا ہے، حکومت نے ایچ ای سی کو 100ارب سے زائد فنڈ دیا، ہرضلع میں یونیورسٹی کاقیام یقینی بنائیں گے، دنیا میں صرف تعلیم کے حصول سے ہی آگے بڑھ سکتے ہیں، ملک کے تاجر اور صنعتکارروزگار پیدا کرنے میں معاون ہوتے ہیں، ملک کو ماحولیاتی تبدیلی کا بڑا چیلنج درپیش ہے، ٹیکس نظام میں شفافیت اور سہولت پیدا ہونی چاہیے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top