The news is by your side.

Advertisement

نومبر2017میں لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کردیں گے، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا اعلان

میانوالی: وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے اعلان کیا کہ نومبر دوہزار سترہ میں ملک سے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کردیا جائے، میاں نواز شریف کے عزم کو ہم پورا کریں گے۔ بجلی کے منصوبے موجودہ دورے حکومت میں ہی مکمل ہونگے ۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شاہدخاقان عباسی نے چشمہ پاور پلانٹ4 کا افتتاح کردیا، منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ آج 8 ماہ بعد پانچویں بجلی گھر سی فور کا افتتاح خوش آئندہ ہے، 28 دسمبر2016میں سی تھری منصوبے کا باقاعدہ افتتاح ہوا، سی فور سے پہلے شروع تینوں یونٹس بہترین کام کررہے ہیں۔

شاہد خاقان کا کہنا تھا کہ خوشی ہے کہ کے ٹو اور کے تھری تیزی سے تکمیل کی جانب گامزن ہیں، جوہری توانائی پلانٹس سے سستی بجلی حاصل ہورہی ہے، منصوبے مکمل ہونے کے بعد ملک کو روشن اور ماحول کو صاف رکھیں گے، یونٹ ون کے معاہدے نے پاک چین ایٹمی توانائی کی نئی بنیاد رکھی، عالمی امداد کے بغیر 4دہائیوں سے کینپ سے بجلی کی پیداوار کررہے ہیں، چشمہ اور مظفرگڑھ میں جوہری توانائی کے مزید منصوبے لگا رہے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ نوازشریف کے وژن کے مطابق توانائی کی ضروریات پوری کررہےہیں، چین کی حکومت اور عوام کی مدد کے بغیر یہ منصوبےمکمل نہیں ہوسکتےتھے، چینی کمپنیاں پاکستان میں مزید جوہری پلانٹس میں سرمایہ کاری کریں۔

شاہد خاقان عباسی نے اعلان کیا کہ نومبر2017کے بعد لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کرنے کے قابل ہونگے، پاکستان نے قابل اعتماد اور طاقتور جوہری توانائی منصوبے کی بنیاد رکھ دی ہے، منصوبے2020کے8000 میگاواٹ منصوبے کا اہم ہدف ہیں، منصوبوں کی تکمیل کے لیے چینی حکومت اور اداروں کے مشکورہیں،وزیراعظم

انھوں نے کہا کہ جوہری توانائی سمیت مختلف شعبوں میں چین کا تعاون قابل فخر ہے، آج پاکستان میں بجلی کی صورتحال پہلے سے بہترہے، ملکی زراعت میں پاکستان اٹامک انرجی کا تعاون قابل فخر ہے، پی اے ای سی کےتحت ملک بھر میں 18کینسر اسپتال کام کر رہےہیں،وزیراعظم

وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبےکےثمرات عوام تک پہنچ رہےہیں، حکومت سی پیک میں نجی شعبے کو مواقع فراہم کرناچاہتی ہے، گوادرپورٹ تکمیل کے مراحل میں ہے، کینوپ کی پیداواری صلاحیت،جوہری پلانٹس کی کارکردگی سے جوہری بجلی کاحصول ممکن ہوا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں